غلبہء حق

by Other Authors

Page 219 of 304

غلبہء حق — Page 219

۲۱۹ الجواب : فاروقی صاحب نے اِنَّهُ عَبْدُ غير صالح کا ترجمہ اس الہام کو اس کے سیاق سے الگ کر کے اور حضرت مسیح موعود کی تشریح کو رد کر کے وہ بد کارلڑ کا ہے“ کر دیا ہے۔یہ امر فاروقی صاحب کے خود غلط کار ہونے کا ایک روشن ثبوت ہے کیونکہ پورا العام یوں ہے :- لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَن لَّا يَكُونُوا مُؤْمِنينَ لا تقف مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ وَلَا تُخَاطِبَنِي في الذِينَ ظَلَمُوا اَنَّهُمْ مُخْرَتُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ أعْرِضْ عَنْ هَذَا إِنَّهُ عَبْدُ غَيْرُ صَالِحٍ إِنَّمَا أنتَ مُذَكَرُ رَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ " " ترجمه از حضرت مسیح موعود علیہ السلام :- کیا تو اسی غم میں اپنے تین ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے مت پڑ۔اور ان لوگوں کے بارے میں جو ظالم ہیں میرے ساتھ مخاطبت مت کر۔وہ غرق کیسے جائیں گے۔اے ابراہیم اس سے کنارہ کہ یہ صالح آدمی کا کا نہیں تو صرف نصیحت دہندہ ہے ان پر دار و غر نہیں “ " یہ ترجمہ کرنے کے بعد بطور تشریح حضرت اقدس لکھتے ہیں :- یه چند آیات جو بطور العام الفا ہوئی ہیں بعض خاص لوگوں کے حق میں ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم منه ومناه) اور براہین احمدیہ حصہ پنجہ میں اس الہام کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بعض اپنی قوم کے لوگوں سے اور قریب کے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا پڑا