غلبہء حق — Page 217
رہنے کا وعدہ ہے اور یہ وعدہ متقیوں اور مجرموں کے درمیان امتیاز اور نشان قرار دیا گیا ہے اور اس نشان کے ذریعہ جن کا فتح پانا اور باطل کا شکست کھانا بیان کیا گیا ہے - هُذَا الَّذِى كُنتُم بِہ تَسْتَعْجِلُونَ سے مراد بھی عذاب الہی ہے جو مخالف طلب کرتے تھے۔پس ان الہامات کا مصلح موعود کی ذات سے کوئی تعلق نہیں۔تذکرہ ماحول کا الہام إِنَّا كُنَّا خَاطِين ترتیب میں مندرجہ ذیل الہامات کے درمیان واقع ہے :۔اجرود رَبِّ أَخَرَ وَقَتَ هَذَا أَخَرَهُ اللَّهُ إِلَى وَاتِ مُسَمًّى تَرَى نَصْرًا عَجِيْبًا يَخِرُّونَ عَلَى الأَذْقَانِ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ يَا نَبَى اللَّهِ كُنتُ لَا أَعْرِفُكَ لا تتريب عَلَيْكَ الْيَوْمَ يَغْفِرُ الله تَتَرِيْبَ لكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ التَّرَاحِمينَ " ترجمه از مسیح موعود علیہ السلام : - " اے خدا بزرگ زلزلہ کے ظہور میں کسی قدر تاخیر کر دے۔خدا نموند قیامت کے زلزلہ میں ایک وقت منظر یہ تک تاخیر کر دے گا۔تب تو ایک عجیب مدد دیکھنے گا اور تیرے مخالف ٹھوڑیوں کے بل گریں گے یہ کہتے ہوئے اسے خدا ہمیں بخش دے اور ہمارے گناہ معان رہم گناہ گار تھے اور زمین ریعنی اہل زمین ناقل رکھے گی اسے خدا کے نبی میں تجھے شناخت نہ کرتی تھی۔اسے خطا کا رو آج تم پر کوئی ملامت نہیں خدا انخیس بخش دیگا وہ ارحم الراحمین ہے ( تذکرہ (۶۵)