غلبہء حق — Page 213
۲۱۳ بیان کی گئی ہے محض بغض و عداوت کی وجہ سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر چسپاں کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔چنانچہ وہ حضرت مرزا غلام احمد کی چند مندر پیشگوئیاں اور الہامات" کے عنوان کے تحت لکھتے ہے اب حضرت مرزا صاحب خدا سے مدد کے خواندگار رہتے تھے اور روحانی وارث کے لیے دعائیں مانگتے رہتے تھے رب لا تذر في فردا وانت خير الوارثين راے میرے رب تو مجھے اکیلا مت چھوڑ یو اور تو سب سے بہتر وارث دینے والا ہے) آپ کی ان دعاؤں کے عملہ میں آپ کو آپ کی ذریت میں سے ایک مصلح موعود کے آپ کی جماعت میں پیدا ہونے کی خوش خبری دی و فتح حق ص۳۶) فاروقی صاحب ! سنیئے ، خدا نے تو کہا تھا کہ تیرے مانگنے کے موافق میں نے تیری تضرعات کو شنا اور تیری دعا ڈال کو بیائیہ قبولیت جگہ دی الهام متعلق مصلح موعود مندرجه اشتهار ۲۰ فروری عشاء) اس سے تو ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کوئی نشان اپنے زمانہ کے لیے طلب فرما رہے تھے۔لہذا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مصلح موعود بقول فاروقی صاحب سولہویں صدی میں آنا چاہیئے۔جبکہ میسج موعود کی ہی خواہش تھی اور اسی کے لیے آپ نے تضرع سے دعائیں کیں کہ آپ کو ایک نشان رحمت دیا جائے اور خدا تعالے نے اس پر آپ کے ہاں ایک سچی نفس فرزند ہونے کی بشارت دی۔اور پھر 9 سال کے اندر اس کے پیدا ہونے کا وعدہ دیا۔(1) آگے فاروقی صاحب لکھتے ہیں :۔