غلبہء حق — Page 203
کی کمزوری پر محمول قرار دے رہے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عنہ مستری کی دعوت مباہلہ عبد الکریم کی دعوت مباہلہ کو تو خلاف شرع ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کر سکتے تھے۔مگر حضور نے ان لوگوں پر اتمام حجبت کے لیے انہیں اپنی خلافت کے متعلق دعوت مباہلہ دی تھی۔کیونکہ مستری عبد الکریم اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کے دعادی میں راستباز سمجھتا تھا۔اس موقعہ پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذیل کے پرزور الفاظ میں دعا فرمائی : ئیں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس کے ہاتھ میں جزا اور سزا ہے اور ذلت و عزت ہے کہ میں اس کا مقرر کردہ خلیفہ ہوں اور جو لوگ میرے مقابل پر کھڑے ہیں اور مجھے سے مباہلہ کا مطالبہ کرتے ہیں وہ اس کی مرضی اور اس کے قانون کے خلاف کام کر رہے ہیں۔اگر میں اس امرمیں دھو کے سے کام لیتا ہوں تو اسے خدا تو اپنے نشان کے ساتھ صداقت کا اظہار فرما۔اب جس شخص کو دعوئی ہو کہ وہ اس رنگ میں میرے مقابل پر آنے ہیں حق بجانب ہے۔وہ بھی قسم کھالے اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کر دے گا۔مکتوب ۲۱ اکتوبر ۱۹۲۶ بنام بابو عبد الحميد ما شمال مطبوعہ رسالہ جواب مباهله من ۳۰ جون ص +19+9