غلبہء حق — Page 202
معلوم ہے کہ اسلام حق پر نہیں۔۔۔۔۔۔الخ (ب) دوم اس ظالم کے ساتھ جو بے جا تہمت لگا کر اس کو ذلیل کرنا چاہتا ہے " فتح حق ص۲) مباہلہ کی یہ دونوں صورتیں میں مسلم ہیں۔مگر ہم دینیری صورت مبا باہ کی تسلیم نہیں کرتے کہ ایک شخص دوسرے کو ذلیل کرنے کے لیے تہمت بھی لگائے اور پھر خود ہی اسے مباہلہ کا چیلنج بھی دیدے۔تہمت لگانے پر صرف مظلوم کو باختیار ہے کہ وہ بہتان باندھنے والے کو مباہلہ کی دعوت دے۔تہمت لگانے والے کا دوسرے کو مباہلہ کی دعوت دید نیا محض ایک ڈھونگ ہے اور اسلام سے تمسخر کے مترادف ہے اور شریعت اسلامیہ کی صریح ہتک ہے۔ایسی صورت میں جس پر تہمت لگائی گئی ہوا سے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق ہر سے ہی کام لینا چاہیے۔کیونکہ خدا نے تو قرآن مجید میں مقدم امر ایذا پر صبر کو ہی قرار دیا ہے گو مسیح موعود علیہ السلام نے اس شخص کو جس پر تہمت لگائی گئی ہو مباہلہ کرنے کی اجازت بھی دی ہے مگر اتہام لگانے والوں سے جو انتہام لگانے کے بعد پھر خود ہی دوسرے فریق کو مباہلہ کی دعوت بھی دے دیں مباہلہ کرنا شریعت اسلامیہ کی رُو سے ہرگز جائز نہیں۔لہذا اس موقعہ پر کسی ٹال مٹول کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔یہ کس طرح ممکن تھا کہ جماعت احمدیہ کا امام ایک خلاف شرع امر کا ارتکاب کر کے ایک نا جائز مثال قائم کردیا۔اس کا فرض تو اس موقعہ پر یہی تھا کہ قرآنی ارشاد کے مطابق بے جانمتوں پر صبر سے کام کیا اور اتہام لگا کر مین ہلہ کی دعوت دینے والوں کی دعوت کو رد کر دیا۔کیونکہ اصل سزا تو خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ صبر کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔تعجب ہے کہ فاروقی صاحب حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے پر ہمت صبر کو آپ