غلبہء حق — Page 184
۱۸۴ گستاخ ہو گئے۔بالآخر ۲۸ جنوری ۱۹۳۳ء میں یہ اعلان کر ہی دیا یہ ہمیں اس خیار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اور جس پر افترا کرنے والا اس کے عذاب سے کبھی بچ نہیں سکتا کہ خدا کے مجھے اس شہر لاہور ، ٹمپل روڈ شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مکان میں یہ خبر دی کہ میں ہی مصلح موعود کی پیش گوئی کا مصداق ہوں اور میں ہی تسلح موٹو ہوں جس کے ذریعہ سے اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا اور توحید دنیا میں قائم ہوگی۔(دیکھو اخبار الفضل رو مورخہ یکم فروری انه فاروقی صاحب کی شستہ بہانی ملاحظہ ہو کہ وہ حضرت تعلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخ " کا لفظ اور علماء جماعت احمدیہ کی شان میں پالتو کا لفظ بطور تحفیر استعمال کر رہے ہیں۔انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ حدیث نبوی میں وارد ہے الحسد نار تأصل الحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْخَطَب کر حسد ایک ایسی آگ ہے جو نیکیوں کو اس طرح کی جاتی ہے جس طرح آگ اینڈ مین کو کھا جاتی ہے۔افسوس صد افسوس ! فاروقی صاحب تو کہتے ہیں پالتو مولویوں نے یہ لکھنا اور کہنا شروع کر دیا تھا کہ میاں صاحب ہی حضرت مرزا صاحب کی پیش گوئی مصلح موعود کے مصداق ہیں مگر کیا اُن کو معلوم نہیں کہ سب سے پہلے اس پیشگوئی کا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو مصدق قرار دینے والا کوئی مولوی نہ تھا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مخلص صحابی پر منظور احمد صاحب تھے۔پیر