غلبہء حق — Page 134
۱۳۴ قرآن کے بعد یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد) کوئی رسول یا نبی نہیں آسکتا " رفتح حق صت اور صفحہ ۲۱ و ۲۲ پر لکھا ہے :- بنی کی دھی سابقہ شریعت یا کتاب میں ترمیم نسخ کرسکتی ہے اتنی کی وحی نہیں کر سکتی۔وحی نبوت تکمیل ہدائت کرتی ہے مگر ہدائت چونکہ قرآن کریم میں کامل ہو چکی اس لیے مسیح موعود کی وحی وحی نبوت نہیں ؟ فاروقی صاحب کی ان دونوں عبارتوں سے ظاہر ہے کہ وحی نبوت ان کے نزدیک شریعت جدیدہ پر شمل وحی کو کہتے ہیں کیونکہ ایسی وحی ہی کسی پیلی شرعیت کے حکم کی ترمیم وتنسیخ کر سکتی ہے۔ان کا یہ کہنا درست ہے کہ ایسی دھی قرآن مجید کے بعد ہر گز نازل نہیں ہوسکتی کیونکہ قرآن مجید کے ذریعہ شریعت مکمل ہو چکی ہے۔پس قیامت تک وحی نبوت ان معنوں میں کہ وہ شریعیت جدیدہ پر مشتمل ہو ہرگز نازل نہیں ہو سکتی۔ازالہ اوہام کی مندرجہ بالا عبارت میں دراصل وحی نبوت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مراد ایسی وحی ہے جو کسی تشریعی یا منتقل رسولی پر نازل ہو اور یہ ہمارا ایمان ہے کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریعی یا مستقل رسول کی حیثیت میں نہیں آسکتا۔یہ واضح رہے کہ وحی نبوت کے ایک معنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک ایسی دحی کے بھی ہیں جس میں کسی شخص کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی کہا گیا ہو۔چنانچہ حضور نے اربعین" میں آیت کریمہ لَو تَقَدَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأَقاويل لاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِن ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - (الحاقی) اپنے دعوئی کے ثبوت میں پیش کر کے بتایا ہے کہ اس کے مطابق آپ اپنے