غلبہء حق — Page 117
114 کے عقیدہ میں تبدیلی کا یہ تھا کہ پہلے آپ اپنے آپ کو حضرت عیسے کے بالمقابل نبی نہیں سمجھتے تھے لیکن بارش کی طرح وحی الہی سے عمر کے تلور پر نبی کا خطاب یافتہ سمجھے لینے پر آپ نے حضرت مسیح علیہ السلام پر جزوی فضیلت کا عقیدہ ترک کر کے جو غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے اس سے تناقض رکھنے والا یہ عقیدہ اختیار کر لیا کہ آپ اپنی تمام شان میں حضرت مسیح ابن مریم سے بہت بڑھ کر ہیں۔پس ثبوت کے عقیدہ میں تبدیلی ہی فضیلت کے عقیدہ میں تبدیلی کا باعث ہوئی ہے۔چنانچہ آپ نے آگے چل کر حقیقۃ الوحی میں صاف طور پر لکھ دیا ہے کہ :۔عزیز و با جبکہ میں نے یہ ثابت کردیا کہ مسیح ابن میریم فوت ہو گیا ہے اور آنے والا سیح میں ہوں تو اس صورات میں جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھنا ہے اس کو نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہیئے کہ آنے والی سے کچھ چیز ہی نہیں۔نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم جو کچھ ہے پہلا ہے۔(حقیقۃ الوحی مش10) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے نبی کہلانے کا حضرت عیسی علیہ السلام سے افضل ہونے میں ضرور دخل ہے اور اگر آپ نبی نہ سمجھے جائیں تو پھر پہلا سح آپ سے افضل قرار پاتا ہے۔پس اگر آپ محدث یا نا قص بنی قرار دیئے جائیں تو پھر حضرت عیسی علیہ السلام آپ سے افضل قرار پاتے ہیں کیونکہ یہ امر تو عقد تسلیم کرنے کے لیے مجبور ہے کہ ایک شخص جو نبی نہ ہو وہ اپنے آپ کو ایک مسلم نبی کے مقا با میں اپنی تماشان میں افضل قرار دینے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔غیر نبی ہوتے ہوئے اس کا ایسا