غلبہء حق

by Other Authors

Page 115 of 304

غلبہء حق — Page 115

اس عبارت سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کا تریاق القلوب کی تحر یر یک جزوی فضیلت رکھنے کا عقیدہ اس وجہ سے تھا کہ آپ حضرت عیسلے سے نبوت میں اپنی کوئی نسبت نہ سمجھتے تھے یعنی انھیں کامل نبی سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو جردی نبی لیکن آپ اس عقیدہ پر قائم نہ رہے اور آپ نے دوسرا عقیدہ حضرت علیے علیہ السلام سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہونے کا اس وقت اختیار کیا جبکہ بارش کی طرح وحی الٹی سے آپ پر صریح طور پر نبی کا خطاب پانا منکشف ہو گیا۔گویا نبوت کے عقیدہ میں تبدیلی کو ہی آپ نے حضرت مسیح پر فضیلت میں تبدیلی کا باعث قرار دیا ہے اور دونوں عقیدوں میں اسی طرح کا تناقض تقسیم فرمایا ہے۔جس قسم کا تناقض آپ نے اس عقیدہ میں قرار دیا ہے جو آپ پہلے یوں رکھتے تھے کہ :۔حضرت عیسے آسمان سے نازل ہونگے ؟ حالا نکہ اس وقت بھی خدا نے آپ کا نام عیسے رکھا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی۔اس وقت حضرت اقدس نے اس وجی کی یہ تاویل کی تھی کہ آپ مشین مسیح ہیں اور اپنے تئیں مسیح موعود قرار نہیں دیا تھا پھر اس کے بعد بارش کی طرح وحی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا ، تو ہی ہے۔تو آپ نے اپنے عقیدہ کے خلاف یہ اعلان کر دیا کہ آپ ہی میسج موعود ہیں۔پس جس طرح اس عقیدہ میں تبدیلی ہوئی ہے اسی طرح جزدی فضیلت کے عقیدہ کو ترک کر کے اپنی تمام شان میں حضرت مسیح علیہ السلام سے بہت بڑھ کر ہونے کا عقیدہ آپ نے اس وقت اختیار کیا جبکہ بارش کی طرح دھی اعلی میں صریح طور پر نبی کا خطاب دیا جانا آپ پر ظاہر ہو گیا۔