فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 80
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 80 80 ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بوساطت منشی بنی بخش صاحب اور مولوی نور الدین صاحب یہ امر تحقیق کیلئے پیش کیا گیا۔جس پر حضرت امام الزمان نے مفصلہ ذیل فتوی دیا کہ:۔" میرا یہ ہرگز مذہب نہیں کہ آنحضرت علی اللہ اُٹھکر فقط قرآن شریف پڑھ لیا کرتے اور بس۔میں نے ایک دفعہ یہ بیان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو یا کوئی اور ایسی وجہ ہو کہ وہ تہجد کے نوافل ادا نہ کر سکے تو وہ اُٹھ کر استغفار درود شریف اور الحمد شریف ہی پڑھ لیا کرے۔آنحضرت علی اللہ ہمیشہ نوافل ادا کرتے۔آپ کثرت سے اارکعت پڑھتے ، ۸ نفل اور تین وتر۔آپ کبھی ایک ہی وقت میں ان کو پڑھ لیتے اور کبھی اس طرح سے ادا کرتے کہ دور کعت پڑھ لیتے اور پھر سو جاتے اور پھر اُٹھتے اور دو رکعت پڑھ لیتے اور سو جاتے۔غرض سو کر اور اُٹھ کر نوافل اسی طرح ادا کرتے جیسا کہ اب تعامل ہے اور جس کو اب چودھویں صدی گزر رہی ہے۔" ( اخبار بدر نمبر 43 جلد 2 مؤرخہ 16 نومبر 1903 ء صفحه (335) (۱۰۰) تہجد میں رکعات گیارہ ہیں یا تیرہ تروایح کے متعلق عرض ہوا کہ جب یہ تہجد ہے تو ہمیں رکعت پڑھنے کی نسبت کیا ارشاد ہے کیونکہ تہجد تو مع وتر گیارہ یا تیرہ رکعت ہے۔فرمایا:۔حضرت علیم اللہ کی سنت دائمی تو وہی آٹھ رکعات ہے اور آپ تہجد کے وقت ہی پڑھا کرتے تھے اور یہی افضل ہے۔مگر پہلی رات بھی پڑھ لینا جائز ہے ایک روایت میں ہے کہ آپ نے رات کے اول حصے میں اسے پڑھا۔بیس رکعات بعد میں پڑھی گئیں مگر آنحضرت علی اللہ کی سنت وہی تھی جو پہلے بیان ہوئی۔" فرمایا:- اخبار بدر نمبر 5 جلد 7 مؤرخہ 06 فروری 1908 صفحہ 7 (۱۰۱) قبول ہونے والی دعا کے آثار "دعا جب قبول ہونے والی ہوتی ہے تو اللہ اس کیلئے دل میں ایک سچا جوش اور اضطراب پیدا کر