فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 79

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 79 بھی بہت سے فرقے بن گئے ہیں اور سب اپنی اپنی باتیں نئے طرز کی نکالتے ہیں۔تمام زمانہ کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے۔اسی واسطے خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں وہ مجدد بھیجا ہے جس کا نام مسیح موعود رکھا گیا ہے اور جس کا انتظار مدت سے ہو رہا تھا اور تمام نبیوں نے اس کے متعلق پیشگوئیاں کی تھیں اور اس سے پہلے زمانہ کے بزرگ خواہش رکھتے تھے کہ وہ اس کے وقت کو پائیں۔" اخبار بدر نمبر 46 جلد 2 مؤرخہ 15 نومبر 1906 ء صفحہ 5 (۹۹) نماز وطریق تهجد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :۔" ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کرلیں، جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائے گا۔اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ بچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے؟ پس اس وقت کا اٹھنا ہی ایک درددل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر اُٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں کیونکہ نید تو م کو دور کر دیتی ہے لیکن جب کہ نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی در داور غم نیند سے بھی بڑھ کر ہے جو بیدار کر رہا ہے۔" الحکم نمبر 12 جلد 6 مؤرخہ 31 / مارچ1902 ، صفحہ 6) عبدالعزیز صاحب سیالکوٹی نے لائل پور میں یہ مسئلہ بیان کیا کہ آنحضرت علی اللہ تہجد کی نماز اس طرح سے جیسا کہ اب تعامل اہل اسلام ہے بجا نہ لاتے بلکہ آپ صرف اٹھکر قرآن پڑھ لیا کرتے۔اور ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا کہ یہی مذہب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے۔شیخ اصغر علی صاحب نے اپنے ایک خط میں جو انہوں نے منشی نبی بخش صاحب کے نام روانہ کیا تھا، اس مسئلہ کی نسبت دریافت کیا کہ آیا یہ مسئلہ اس طرح پر ہے جیسا کہ عبدالعزیز صاحب بیان کر گئے