فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 75
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 75 ہو وہاں بہت ہی کم لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن جہاں اس قسم کے مجمعے ہوں وہاں ایک گروہ کثیر جمع ہو جاتا ہے۔نیکیوں کی طرف سے یہ کم رغبتی اور نفسانی اور شہوانی امور کی طرف توجہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ لذت روح اور لذت نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض ان رقص و سرود کی مجلسوں میں دانستہ پگڑیاں اتار لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں صاحب کی مجلس میں بیٹھتے ہی وجد ہو جاتا ہے اس قسم کی بدعتیں اور اختراعی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جنہوں نے نماز سے لذت نہیں اٹھائی اور اس ذوق سے محروم ہیں وہ روح کی تسلی اور اطمینان کی حالت ہی کو نہیں سمجھ سکتے اور نہیں جانتے کہ وہ سرور کیا ہوتا ہے۔مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو اس قسم کی بدعتیں مسلمان کہلا کر نکالتے ہیں اگر روح کی خوشی اور لذت کا سامان اسی میں تھا تو چاہئے تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ جو عارف ترین اور اکمل ترین انسان دنیا میں تھے وہ بھی اس قسم کی کوئی تعلیم دیتے یا اپنے اعمال سے ہی کچھ کر دکھاتے۔میں ان مخالفوں سے جو بڑے بڑے مشائخ اور گدی نشین اور صاحب سلسلہ ہیں پوچھتا ہوں کہ کیا پیغمبر خدا صلی اللہ تمہارے درد و وظائف اور چلہ کشیاں الٹے سیدھے لٹکنا بھول گئے تھے اگر معرفت اور حقیقت شناسی کا یہی ذریعہ اصل تھے۔مجھے بہت ہی تعجب آتا ہے کہ ایک طرف قرآن شریف میں یہ پڑھتے ہیں الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی اور دوسری طرف اپنی ایجادوں اور بدعتوں سے اس تکمیل کو تو ڑ کر ناقص ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ایک طرف تو یہ ظالم طبع لوگ مجھے پر افترا کرتے ہیں کہ گویا میں ایسی مستقل نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جو صاحب شریعت نبی صلی اللہ کے سوا الگ نبوت ہے مگر دوسری طرف یہ اپنے اعمال کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کرتے کہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ تو خود کر رہے ہیں جب کہ خلاف رسول اور خلاف قرآن ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں۔اب اگر کسی کے دل میں انصاف اور خدا کا خوف ہے تو کوئی مجھے بتائے کہ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ کی پاک تعلیم اور عمل پر کچھ اضافہ یا کم کرتے ہیں؟ جب عليه وسلم که اسی قرآن شریف کے بموجب ہم تعلیم دیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ ہی کو اپنا امام اور حکم مانتے ہیں۔کیا اڑہ کا ذکر میں نے بتایا ہے اور پاس انفاس اور نفی واثبات کے ذکر اور کیا کیا اور کیا کیا میں سکھاتا ہوں۔پھر جھوٹی اور مستقل نبوت کا دعویٰ تو یہ لوگ خود کرتے ہیں اور الزام مجھے دیتے ہیں۔