فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 74
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 74 (۹۴) انسان کو نماز کی حاجت "نماز وہ ہے جس میں سوزش اور گدازش کے ساتھ اور آداب کے ساتھ انسان خدا کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے۔جب انسان بندہ ہو کر لا پرواہی کرتا ہے تو خدا کی ذات بھی غنی ہے۔ہر ایک اُمت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے۔ایمان کی جڑ بھی نماز ہے۔بعض بیوقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے۔اے نادانو ! خدا کو حاجت نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تمہاری طرف توجہ کرے۔خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے اور ذریعہ حصول قرب الہی ہے۔" اخبار بدر نمبر 10 جلد 1 مؤرخہ 08 جون 1905 ، صفحہ 2 (۹۵) مسئله تعظیم قبله سوال ہوا کہ اگر قبلہ شریف کی طرف پاؤں کر کے سویا جاوے تو جائز ہے کہ نہیں ؟ فرمایا کہ:۔" یہ ناجائز ہے کیونکہ تعظیم کے برخلاف ہے۔" سائل نے عرض کی کہ احادیث میں اس کی ممانعت نہیں آئی۔فرمایا : یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔اگر کوئی شخص اسی بناء پر کہ حدیث میں ذکر نہیں ہے اور اس لئے قرآن شریف پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا کرے تو کیا یہ جائز ہو جاوے گا ؟ ہر گز نہیں۔(وَمَنْ يُعَظِمُ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ)" اخبار بدر نمبر 28 جلد 3 مؤرخہ 24 جولائی 1904، صفحہ 6 (۹۶) لوگوں کے خود تراشیدہ وظائف وسرود در قص پر فتوے فرمایا:- " اپنی شامت اعمال کو نہیں سوچا۔ان اعمال خیر کو جو پیغمبر صلی اللہ سے ملے تھے ترک کر دیا اور ان کے بجائے خود تراشیدہ ورد وظائف داخل کر لئے اور چند کا فیوں کا حفظ کر لینا کافی سمجھا گیا۔بلھے شاہ کی کافیوں پر وجد میں آجاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کا جہاں وعظ ہورہا