فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 40
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام "ضروری ہے۔" 40 40 اخبار بدر نمبر 44 جلد 6 مؤرخہ 31 اکتوبر 1907 صفحه (7) (۵۵) نماز میں طریق حصول حضور سوال : کبھی نماز میں لذت آتی ہے اور کبھی وہ لذت جاتی رہتی ہے۔اس کا کیا علاج ہے؟ جواب :۔" ہمت نہیں ہارنی چاہئے بلکہ اس لذت کے کھوئے جانے کو محسوس کرنے اور پھر اس کو حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔جیسے چور آوے اور وہ مال اُڑا کر لے جاوے تو اس کا افسوس ہوتا ہے اور پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ آئندہ کو اس خطرہ سے محفوظ رہے۔اس لئے معمول سے زیادہ ہوشیاری اور مستعدی سے کام لیتا ہے۔اسی طرح پر جو خبیث نماز کے ذوق اور انس کو لے گیا ہے تو اس سے کس قدر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور کیوں نہ اس پر افسوس کیا جاوے۔انسان جب یہ حالت دیکھے کہ اس کا انس و ذوق جاتا رہا ہے تو وہ بے فکر اور بے غم نہ ہو۔نماز میں بے ذوقی کا پیدا ہونا ایک سارق کی چوری اور روحانی بیماری ہے۔جیسے ایک مریض کے منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے تو وہ فی الفور علاج کی فکر کرتا ہے، اس طرح پر جس کا روحانی مذاق بگڑ جاوے اس کو بہت جلد اصلاح کی فکر کرنی لازم ہے۔یا درکھو انسان کے اندر ایک بڑا چشمہ لذت کا ہے جب کوئی گناہ اس سے سرزد ہوتا ہے تو وہ چشمہ لذت مکدر ہو جاتا ہے اور پھر لذت نہیں رہتی۔مثلاً جب ناحق گالی دیدیتا ہے یا ادنی ادنی سی بات پر بد مزاج ہوکر بدزبانی کرتا ہے تو پھر ذوق نماز جاتا رہتا ہے۔اخلاقی قومی کو لذت میں بہت بڑا دخل ہے۔جب انسانی قومی میں فرق آئے گا تو اس کے ساتھ ہی لذت میں بھی فرق آجاوے گا۔پس جب کبھی ایسی حالت ہو کہ انس اور ذوق جو نماز میں آتا تھا وہ جاتا رہا ہے تو چاہئے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہو کر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گم شدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے اور اس کا علاج ہے تو بہ، استغفار ، تضرع۔بے ذوقی سے ترک نماز نہ کرے بلکہ نماز کی اور کثرت کرے جیسے ایک نشہ باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ کو چھوڑ نہیں دیتا بلکہ جام پر جام پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اس کو لذت اور سرور آ جاتا ہے۔پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہو اس کو کثرت کے ساتھ نماز ھنی چاہئے اور تھکنا مناسب نہیں۔آخر اسی بے ذوقی میں ایک ذوق پیدا ہو جاوے گا۔دیکھو پانی کیلئے