فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 246
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 246 اس پر فقیر نے کہا روپیہ کی کیا بات ہے اور اتنا کہ کر خاموش ہو گیا۔اس ذومعنے جواب پر اس شخص کو کچھ خیال پیدا ہوا اور اس نے اس سے پوچھا کیا تم کچھ کیمیاء جانتے ہو۔اس نے کہا ہاں استاد صاحب جانتے تھے اور بہت اصرار کے بعد مان لیا کہ مجھ کو بھی آتا ہے پر میں کسی کو بتا تا نہیں۔چونکہ تم بہت پیچھے پڑے ہو اس لئے کچھ تم کو بتا دیتا ہوں اور یہ کہہ کر اس کو گھر کا زیور اکٹھا کرنے کی ترغیب دی اور کچھ مدت تک باہر میدان میں جا کر وظیفہ پڑھتا رہا۔ایک زیور لے کر ہنڈیا میں رکھنے لگا مگر کسی طرح اس زیور کو تو چرا لیا اور اس کی جگہ اینٹیں اور روڑے بھر دیئے اور خود وظیفہ کے بہانے باہر چلا گیا اور جاتے وقت کہہ گیا کہ اس ہنڈیا کو بہت سے اپلوں میں رکھ کر آگ دومگر دیکھنا کچانہ اتارنا بلکہ جب تک میں نہ آؤں اسے ہاتھ نہ لگانا۔اس نے اس کے کہنے کے مطابق اس ہنڈیا کو خوب آگ دی اور۔۔اس قدر دھواں ہوا کہ ہمسایہ اکٹھے ہو گئے اور دروازہ کھلوا کر اندر گئے اور جب اس سے پوچھنے پر معلوم کیا کہ کیمیا بن رہا ہے تو انہیں نے اس شخص کو سمجھایا کہ وہ تجھے لوٹ کر لے گیا اور جب ہنڈیا کھولی تو اس میں سے روڑے نکلے۔چنانچہ وہ شخص جب کسی کام کیلئے گورداسپور گیا تو اسے وہاں معلوم ہوا کہ وہی شخص کسی اور کو دھوکا دے گیا ہے اور وہاں آگ جل رہی ہے۔پس اس نے ان کو بھی سمجھا دیا کہ وہ مجھ کو بھی لوٹ کر لے گیا ہے اور وہاں بھی ہنڈیا کھولنے پر اینٹ پتھر ہی نکلے۔اسی طرح قادیان کے پاس ایک گاؤں ہے وہاں ایک کیمیا گر آیا اور مسجد میں ٹھہرا۔مسجد والے سے پوچھا کہ یہ مسجد ٹوٹی پھوٹی ہے اس کو بناتے کیوں نہیں۔اس نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں یہ مسجد بنی تھی اب ہم غریب ہیں اس قدر وپیہ نہیں۔اس نے کہا کہ نہیں روپیہ کا کیا ہے بندوبست ہو جائے گا اور پوچھے جانے پر جواب دیا کہ میں چاندی بنا سکتا ہوں۔چنانچہ اس شخص نے پچیس روپے دیئے اور وہ کیمیا گر اس کو لے کر بٹالہ آیا اور وہاں پہنچ کر اس کو صاف کی ہوئی قلعی دیدی۔وہ شخص بے چارہ سادہ لوح تھا فرق نہ کر سکا اور اپنے گاؤں میں آ کر سنار کو دکھلائی تو معلوم ہوا کہ بالکل بے قیمت ہے۔اسی طرح ایک ڈپٹی صاحب تھے جن کو مدت سے کیمیا کا شوق تھا اور اس میں بہت روپیہ ضائع کر چکے تھے۔ایک دن ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا کہ میں کیمیا بنانی جانتا ہوں مگر سامان وغیرہ کیلئے پانچ سو روپیہ درکار ہے وہ ڈپٹی صاحب نے فور آدلوادیا۔روپیہ لے کر وہ شخص ایک پاس کی دکان پر بیٹھ گیا اور ڈپٹی