فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 245
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 245 (۳۱۵) قادیان میں تجارت کیلئے آنا ایک مرتبہ کسی نے کہا کہ میں تجارت کیلئے یہاں آنا چاہتا ہوں۔فرمایا:۔" یہ نیت فاسد ہے اس سے تو بہ کرنی چاہئے۔یہاں تو دین کے واسطے آنا چاہئے اور اصلاح عاقبت کے خیال سے یہاں رہنا چاہئے۔نیت تو یہی ہو اور اگر پھر اس کے ساتھ کوئی تجارت وغیرہ یہاں رہنے کی اغراض کو پورا کرنے کیلئے ہو تو حرج نہیں ہے۔اصل مقصد دین ہو نہ دنیا۔کیا تجارتوں کیلئے شہر موزوں نہیں ؟ یہاں آنے کی اصل غرض کبھی دین کے سوا اور نہ ہو۔پھر جو کچھ حاصل ہو جاوے وہ خدا کا فضل سمجھو۔" الحکم نمبر 25, 26 جلد 8 مؤرخہ 31 جولائی و 10 راگست 1904 صفحہ 13 ) (۳۱۶) ٹیکہ لگوانا کسی نے ٹیکہ لگوانے کی بابت دریافت کیا۔فرمایا:۔" حدیث شریف میں آیا ہے کہ کوئی بیماری نہیں کہ جس کی دوا نہ ہو۔ٹیکہ بھی ایک دوا ہے۔" الحکم نمبر 36 جلد 11 مؤرخہ 10 اکتوبر 1907 ، صفحہ 8) فرمایا کہ:۔(۳۱۷) کیمیا " بہت سے لوگ کیمیا کی فکر میں لگے رہتے ہیں اور عمر کو ضائع کرتے ہیں۔اور بجائے اس کے کہ کچھ حاصل کریں جو کچھ پاس ہوتا ہے اس کو بھی کھو دیتے ہیں۔ایک شخص بٹالہ کا رہنے والا تھا جو کہ کسی قدر غربت سے گزارہ کرتا تھا اور اس نے جو مکان رہائش کیلئے بنایا تھا اس کے باہر کی ایک ایک اینٹ تو پکی تھی اور باقی اندر سے کچا تھا۔ایک دن اسے ایک فقیر ملا جو بہت وظیفہ پڑھتا رہتا تھا اور ظاہر انہایت نیک معلوم ہوتا تھا بوجہ اس کے ظاہری درود وظائف کے۔وہ سادہ لوح آدمی اس کے ساتھ بہت بیٹھتا اور تعلق رکھتا تھا۔کچھ مدت کے بعد اس فقیر نے بڑی سنجیدگی سے اس آدمی سے پوچھا کہ تم نے یہ مکان اس طرح پر کیوں بنایا ہے کیوں نہیں سارا پختہ بنا لیتے۔اس نے جواب دیا کہ روپیہ نہیں غریب ہوں۔