فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 238

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 238 " دریائی جانور بے شمار ہیں ان کے واسطے ایک ہی قاعدہ ہے۔جو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرما دیا ہے کہ جو ان میں سے کھانے میں طیب، پاکیزہ اور مفید ہوں ان کو کھا لو۔دوسروں کومت کھاؤ۔" البدر نمبر 36 جلد 6 مؤرخہ 5 ستمبر 1907 ء صفحہ 3) (۳۰۵) جو ہر کے پانی کا استعمال قادیان کے اردگر دنشیب زمین میں بارش اور سیلاب کا پانی جمع ہو کر ایک جو ہر سا بن جاتا ہے جس کو یہاں ڈھاب کہتے ہیں۔جن ایام میں یہ نشیب زمین (ساری یا اس کا کچھ حصہ ) خشک ہوتی ہے تو گاؤں کے لوگ اس کو رفع حاجت کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس میں بہت سی نا پا کی جمع ہو جاتی ہے جو سیلاب کے پانی کے ساتھ مل جاتی ہے۔آج صبح حضرت اقدس بمعہ خدام جب باہر سیر کے واسطے تشریف لے گئے تو اس ڈھاب کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا کہ:۔ایسا پانی گاؤں کی صحت کے واسطے مضر ہوتا ہے۔" پھر فرمایا:۔" اس پانی میں بہت سا گند شامل ہو جاتا ہے اور اس کے استعمال سے کراہت آتی ہے۔اگر چہ فقہ کے مطابق اس سے وضو کر لینا جائز ہے کیونکہ فقہاء کے مقرر کردہ وہ دردہ سے زیادہ ہے تاہم اگر کوئی شخص جس نے اس میں گندگی پڑتی دیکھی ہوا اگر اس کے استعمال سے کراہت کرے تو اس کے واسطے مجبوری نہیں کہ خواہ مخواہ اس سے یہ پانی استعمال کرایا جائے۔جیسا کہ گوہ کا کھانا حضرت رسول کریم عالم نے جائز رکھا ہے مگر خود کھانا پسند نہیں فرمایا۔یہ اسی طرح کی بات ہے جیسا کہ شیخ سعدی نے فرمایا ہے۔سعد یا حب وطن گرچه حدیث است درست نتواں مرد به سختی که درین جازادم البدر نمبر 39 جلد 6 مؤرخہ 26 ستمبر 1907 صفحہ 6