فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 230
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 230 آئے ہیں بڑھاپے میں آکر جب کہ عادت کا چھوڑ نا خود بیمار پڑنا ہوتا ہے بلا کسی خیال کے چھوڑ بیٹھتے ہیں اور تھوڑی سی بیماری کے بعد اچھے بھی ہو جاتے ہیں۔میں حقہ کو منع کہتا اور ناجائز قرار دیتا ہوں۔مگر ان صورتوں میں کہ انسان کو کوئی مجبوری ہو۔یہ ایک لغو چیز ہے اور اس سے انسان کو پر ہیز کرنا چاہئے۔( البدرنمبر 9 جلد 6 مؤرخہ 28 فروری 1907 ء صفحہ 10 ) مؤرخہ 29 رمئی 1898ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار شائع کیا جس کا ملخص یہ ہے: " میں نے چند ایسے آدمیوں کی شکایت سنی تھی کہ وہ پنچ وقت نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے اور بعض ایسے تھے کہ ان کی مجلسوں میں ٹھٹھے اور ہنسی اور حقہ نوشی اور فضول گوئی کا شغل رہتا تھا اور بعض کی نسبت شک کیا گیا تھا کہ وہ پر ہیز گاری کے پاک اصول پر قائم نہیں ہیں اس لئے میں نے بلا توقف ان سب کو یہاں سے نکال دیا ہے کہ تا دوسروں کے ٹھوکر کھانے کا موجب نہ ہوں۔" حقہ نوشی کے متعلق ذکر آیا۔فرمایا:۔( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 49 مطبوعہ اپریل 1986 ء ) اس کا ترک اچھا ہے ایک بدعت ہے منہ سے بو آتی ہے۔ہمارے والد صاحب مرحوم اس کے متعلق ایک شعر اپنا بنایا ہوا پڑھا کرتے تھے جس سے اس کی بُرائی ظاہر ہوتی ہے۔" الحکم نمبر 33 جلد 5 مؤرخہ 10 ستمبر 1901 صفحہ 9) (۲۹۶) تمباکو نوشی برائے علاج ایک شخص نے سوال کیا کہ سنا گیا ہے کہ آپ نے حقہ نوشی کو حرام فرمایا ہے۔فرمایا:۔"ہم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا کہ تمباکو پینا مانند سور اور شراب کے حرام ہے۔ہاں ایک لغو امر ہے اور اس سے مومن کو پر ہیز چاہئے۔البتہ جو لوگ کسی بیماری وغیرہ کے سبب مجبور ہوں وہ بطور دوائی یا علاج کے استعمال کریں تو حرج نہیں۔" البدر نمبر 1 جلد 6 مؤرخہ 10 / جنوری 1907 ء صفحہ 18