فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 229
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 229 تمباکو کے مضرات کے متعلق ایک انگریزی ٹریکٹ مجلس میں پڑھا جارہا تھا کہ جس میں قریباً کل بیماریوں کا باعث تمباکو کا استعمال قرار دیا گیا تھا اور تمباکو کی مذمت میں بہت مبالغہ کیا ہوا تھا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔" خدا کی بات اور مخلوق کی بات میں کس قدر فرق ہوا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اگر کسی شے کے نقصانات بیان کرتا ہے تو ساتھ ہی منافع بھی بیان کرتا ہے کیونکہ کوئی شے ایسی نہیں ہے کہ جس میں کچھ پہلو نفع کا نہ ہو۔لیکن مخلوق کی کلام کو دیکھو کہ نقصانات کے بیان کرنے میں کس قدر مبالغہ کیا ہے اور تمبا کو کے نفع کا نام تک بھی نہیں لیا۔تمباکو کے بارے میں اگر چہ شریعت نے کچھ نہیں بتلایا لیکن ہم اسے اس لئے مکر وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر پیغمبر خداعلی اللہ کے زمانہ میں یہ ہوتا تو آپ اس کے استعمال کو منع فرماتے۔" تمباکو کی نسبت فرمایا کہ:۔البدر نمبر 27 جلد 2 مؤرخہ 24 جولائی 1903 ، صفحہ 1 ) " یہ شراب کی طرح تو نہیں ہے کہ اس سے انسان کو فسق و فجور کی طرف رغبت ہو گر تا ہم تقویٰ یہی ہے کہ اس سے نفرت اور پر ہیز کرے۔منہ میں اس سے بدبو آتی ہے اور یہ منحوس صورت ہے کہ انسان دھواں اندر داخل کرے اور پھر باہر نکالے۔اگر آنحضرت کے وقت یہ ہوتا تو آپ اجازت نہ دیتے کہ اسے استعمال کیا جاوے۔ایک لغو اور بیہودہ حرکت ہے۔ہاں مسکرات میں اسے شامل نہیں کر سکتے۔اگر علاج کے طور پر ضرورت ہو تو منع نہیں ہے ورنہ یونہی مال کو بے جا صرف کرنا ہے۔عمدہ تندرست وہ آدمی ہے جو کسی شے کے سہارے زندگی بسر نہیں کرتا ہے۔انگریز بھی چاہتے ہیں کہ اسے دور کر دیں۔" فرمایا کہ:۔البدر نمبر 11 جلد 2 مؤرخہ 3 را پریل 1903 ، صفحہ 82) (۲۹۵) حقه نوشی " انسان عادت کو چھوڑ سکتا ہے بشرطیکہ اس میں ایمان ہو اور بہت سے ایسے آدمی دنیا میں موجود ہیں جو اپنی پرانی عادات کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جو ہمیشہ سے شراب پیتے چلے