فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 226
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 226 کرنے دیتے بلکہ ہندوستان کی ہندو کمپنی کے منگوایا کرتے ہیں۔عیسائیوں کی نسبت ہندوؤں کی حالت اضطراری ہے کیونکہ یہ کثرت سے ہم لوگوں میں مل جل گئے ہیں اور ہر جگہ انہی کی دکانیں ہوتی ہیں اگر مسلمانوں کی دوکانیں موجود ہوں اور سب سے وہاں ہی سے مل جاوے تو پھر البتہ ان سے خوردنی اشیاء نہ خریدنی چاہئے۔علاوہ ازیں میرے نزدیک اہل کتاب سے غالبا مراد یہودی ہی ہیں کیونکہ وہ کثرت سے اس وقت عرب میں آباد تھے اور قرآن شریف میں بار بار خطاب بھی انہی کو ہے اور صرف تو ریت ہی کتاب اس وقت تھی جو کہ حلت اور حرمت کے مسئلے بیان کر سکتی تھی اور یہود کا اس پر اس امر میں جیسے عملدر آما اس وقت تھا ویسے ہی اب بھی ہے۔انجیل کوئی کتاب نہیں ہے۔" الحکم نمبر 25, 26 جلد 8 مؤرخہ 31 جولائی و 10 را گست 1904 صفحہ 10 ) (۲۸۹) مخالفوں کے گھر کی چیزیں کھانا سوال ہوا کہ کیا مخالفوں کے گھر کی چیز کھالیویں یا نہ ؟ فرمایا:۔"نصاری کی پاک چیزیں بھی کھائی جاتی ہیں۔ہندوؤں کی مٹھائی وغیرہ بھی ہم کھا لیتے ہیں۔پھر ان کی چیز کھا لینا کیا منع ہے۔ہاں میں تو نماز سے منع کرتا ہوں کہ ان کے پیچھے نہ پڑھو۔اس کے سوائے دنیاوی معاملات میں بے شک شریک ہو۔احسان کرو۔مروت کرو۔اور ان کو قرض دو۔اور ان سے قرض لواگر ضرورت پڑے۔اور صبر سے کام لو شاید کہ اس سے سمجھ بھی جاویں۔" الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 را پریل 1903 ، صفحہ 11) (۲۹۰) اہل کتاب کا کھانا اہل کتاب کے کھانا کھانے پر بابومحمد الفضل صاحب کے سوال پر جواب دیا کہ:۔" تمدن کے طور پر ہندوؤں کی چیز بھی کھا لیتے ہیں۔اسی طرح عیسائیوں کا کھانا بھی درست ہے مگر بایں ہمہ یہ خیال ضروری ہے کہ برتن پاک ہوں کوئی ناپاک چیز نہ ہو۔" الحکم نمبر 22 جلد 5 مؤرخہ 17 جون 1901 صفحہ 4