فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 208

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 208 واسطے۔پس سود اپنے نفس کیلئے، بیوی بچوں، احباب، رشتہ داروں اور ہمسایوں کیلئے بالکل حرام ہے لیکن اگر یہ روپیہ خالصہ اشاعت دین کیلئے خرچ ہو تو حرج نہیں ہے خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسلام بہت کمزور ہو گیا ہے اور پھر اس پر دوسری مصیبت یہ ہے کہ لوگ زکوۃ بھی نہیں دیتے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دو مصیبتیں واقع ہو رہی ہیں اور دو حرمتیں روا رکھی گئی ہیں۔اول یہ کہ زکوۃ جس کے دینے کا حکم تھا وہ دیتے نہیں اور سود جس کے لینے سے منع کیا تھا وہ لیتے ہیں۔یعنی جو خدا تعالیٰ کا حق تھا وہ تو دیا نہیں اور جو اپنا حق نہ تھا اسے لیا گیا۔جب ایسی حالت ہو رہی ہے اور اسلام خطر ناک ضعف میں مبتلا ہے تو میں یہی فتویٰ دیتا ہوں کہ ایسے سودوں کی رقمیں جو بینک سے ملتا ہے یکمشت اشاعت دین میں خرچ کرنی چاہئیں۔میں نے جوفتویٰ دیا ہے وہ عام ہے۔ورنہ سود کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔مگر اس ضعف اسلام کے زمانہ میں جب کہ مالی ترقی کے ذریعے پیدا نہیں ہوئے اور مسلمان توجہ نہیں کرتے ایسا رو پیداسلام کے کام میں لگنا حرام نہیں ہے۔قرآن شریف کے مفہوم کے موافق جو حرمت ہے وہ یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کیلئے اگر خرچ ہو تو حرام ہے۔یہ بھی یاد رکھو جیسے سود اپنے لئے درست نہیں کسی اور کو اس کا دینا بھی درست نہیں۔ہاں خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ایسے مال کا دینا درست ہے اور اس کا یہی طریق ہے کہ وہ صرف اشاعت اسلام میں خرچ ہو۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے جہاد ہورہا ہو اور گولی بارود کسی فاسق فاجر کے ہاں ہو اس وقت محض اس خیال سے رک جانا کہ یہ گولی بارود مال حرام ہے ٹھیک نہیں بلکہ مناسب یہی ہوگا کہ اس کو خرچ کیا جاوے۔اس وقت تلوار کا جہاد تو باقی نہیں رہا اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں ایسی گورنمنٹ دی ہے جس نے ہر ایک قسم کی مذہبی آزادی عطا کی ہے۔اب قلم کا جہاد باقی ہے اس لئے اشاعت دین میں ہم اس کو خرچ کر سکتے ہیں۔" الحکم نمبر 33 جلد 9 مورخہ 24 ستمبر 1905 ، صفحہ 9 ایک دوست نے عرض کی کہ میرے ایک رشتہ دار کا بہت سا روپیہ بینک میں کئی سالوں کے واسطے جمع تھا جہاں سے ماہواری سود ملتا ہے۔اس کے مرنے کے بعد اب اس کے وارث لیتے ہیں۔ایسے سود