فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 202
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 202 عنہ کے زمانہ میں ایک صحابی مسجد کے اندر شعر پڑھتا تھا۔حضرت عمرؓ نے اس کو منع کیا۔اس نے جواب دیا میں نبی کریم کے سامنے مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا۔تو کون ہے جو مجھے روک سکے۔یہ سن کر حضرت امیر المومنین بالکل خاموش ہو گئے۔قرآن شریف کو بھی خوش الحانی سے پڑھنا چاہئے بلکہ اس قدر تاکید ہے کہ جو شخص قرآن شریف کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے اور خود اس میں ایک اثر ہے۔عمدہ تقریر خوش الحانی سے کی جائے تو اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔وہی تقر یر ژولیدہ زبان سے کی جائے تو اس میں کوئی اثر نہیں ہوتا۔جس شے میں خدا نے تاثیر رکھی ہے اس کو اسلام کی طرف کھینچنے کا آلہ بنایا جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔حضرت داؤد کی زبور گیتوں میں تھی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ جب حضرت داؤ د خدا کی مناجات کرتے تھے تو پہاڑ بھی اس کے ساتھ روتے تھے اور پرندے بھی تسبیح کرتے تھے۔" ( اخبار بد نمبر 36 جلد 1 مؤرخہ 17 نومبر 1905ء صفحہ 6) (۲۶۲) مزامیر سوال:۔مزامیر کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ جواب: فرمایا: " بعض نے قرآن شریف کے لفظ لھو الحدیث کو مزامیر سے تعبیر کیا ہے۔مگر میرا مذہب یہ ہے کہ ہر ایک شخص کو مقام اور حل دیکھنا چاہئے۔ایک شخص کو جو اپنے اندر بہت سے علوم رکھتا ہے اور تقویٰ کے علامات اس میں پائے جاتے ہیں اور متقی باخدا ہونے کی ہزار دلیل اس میں موجود ہے۔صرف ایک بات جو تمہیں سمجھ میں نہیں آتی اس کی وجہ سے اسے بُرا نہ کہو۔اس طرح انسان محروم رہ جاتا ہے۔بایزید بسطامی کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ لوگ بہت ان کے گرد ہوئے اور ان کے وقت کو پراگندہ کرتے تھے۔رمضان کا مہینہ تھا انہوں نے سب کے سامنے روٹی کھانی شروع کر دی۔تب سب لوگ کا فر کہہ کر بھاگ گئے۔عوام واقف نہ تھے کہ یہ مسافر ہے اور اس کے واسطے روزہ ضروری نہیں۔لوگ نفرت کر کے بھاگے۔ان کے واسطے عبادت کیلئے مقام خلوت حاصل ہو گیا۔" اخبار بدر نمبر 36 جلد 1 مؤرخہ 17 نومبر 1905 ، صفحہ 7)