فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 197

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 197 فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا۔وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحاً يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا یعنی جن عورتوں کی طرف سے ناموافقت کے آثار ظاہر ہو جائیں۔پس تم ان کو نصیحت کرو اور خوابگا ہوں میں ان سے جدار ہو اور مارو ( یعنی جیسی جیسی صورت اور مصلحت پیش آوے پس اگر وہ تمہاری تابعدار ہو جائیں تو تم بھی طلاق وغیرہ کا نام نہ لو اور تکبر نہ کرو کہ کبریائی خدا کیلئے مسلم ہے۔یعنی دل میں یہ نہ کہو کہ اس کی مجھے کیا حاجت ہے میں دوسری بیوی کر سکتا ہوں بلکہ تواضع سے پیش آؤ کہ تواضع خدا کو پیاری ہے اور پھر فرماتا ہے کہ اگر میاں بیوی کی مخالفت کا اندیشہ ہو تو ایک منصف خاوند کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف بیوی کی طرف سے۔اگر منصف صلح کرانے کیلئے کوشش کریں گے تو خدا توفیق دیدے گا۔" فرمایا:۔( آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 51 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۲۵۳) ظہار یعنی اپنی عورت کو ماں کہنا الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ مَاهُنَّ أُمَّهَاتِهِمُ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْ نَهُم وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا وَإِنَّ اللهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ۔وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُوْنَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَّتَمَا شَاذِلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ ا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ۔فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَّتَمَاسًا فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِيِّينَ مِسْكِينًا (الجز نمبر ۲۸ سورة المجادلہ ) یعنی جو شخص اپنی عورت کو ماں کہ بیٹھے تو وہ حقیقت میں اس کی ماں نہیں ہو سکتی، ان کی مائیں وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے سو یہ ان کی بات نا معقول اور سراسر جھوٹ ہے اور خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اور جو لوگ ماں کہ بیٹھیں اور پھر رجوع کریں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے ایک گردن آزاد کر دیں۔یہی خدائے خبیر کی طرف سے نصیحت ہے اور اگر گردن آزاد نہ کر سکیں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے دو مہینہ کے روزے رکھیں اور اگر روزے نہ رکھ سکیں تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں۔" ( آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 50 مطبوعہ نومبر 1984ء)