فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 196

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 196 کے ساتھ دائمی جدائی اور قطع تعلق ہے اور یا تیسری طلاق سے رک جائے اور عورت کو حسن معاشرت کے ساتھ اپنے گھر میں آباد کرے اور یہ جائز نہیں ہو گا کہ جو مال طلاق سے پہلے عورت کو دیا تھاوہ واپس لے لے۔اور اگر تیسری طلاق جو تیسرے حیض کے بعد ہوتی ہے، دیدے تو اب وہ عورت اس کی عورت نہیں رہی اور جب تک وہ دوسرا خاوند نہ کر لے تب تک نیا نکاح اس سے نہیں ہوسکتا۔" ( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 53,52 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۲۵۱) انقضائے عدت وطلاق ثلاثہ دینے کے بعد عورت کو نکاح کرنے سے روکنا واثنائے عدت میں عورت کو گھر سے نہ نکالنا۔طلاق رجعی کی حد فرمایا:۔"جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ مدت مقررہ تک پہنچ جائیں اور عدت کی میعاد گز رجائے تو ان کو نکاح کرنے سے مت روکو۔یعنی جب تین حیض کے بعد تین طلاقیں ہو چکیں ، عدت بھی گزر گئی تو اب وہ عورتیں تمہاری عورتیں نہیں۔ان کو نکاح کرنے سے مت روکو اور خدا سے ڈرو اور ان کو عدت کے دنوں میں گھروں میں سے مت نکالو، مگر یہ کہ کوئی کھلی کھلی بدکاری ان سے ظاہر ہو۔اور جب تین حیض کی مدت گذر جائے تو پھر بعد اس کے احسان کے ساتھ رکھ لو یا احسان کے ساتھ اس کو رخصت کر دو۔اگر کوئی تم میں سے خدا سے ڈرے گا یعنی طلاق دینے میں جلدی نہیں کرے گا اور کسی بے ثبوت شبہ پر بگڑ نہیں جائے گا تو خدا اس کو تمام مشکلات سے رہائی دے گا اور اس کو ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ اسے علم نہیں ہو گا کہ مجھے کہاں سے رزق آتا ہے۔" ( آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 53 مطبوعہ نومبر 1984 ء ) (۲۵۲) وہ ہدایتیں جن کی پابندی کے بعد پھر ایک شخص طلاق دینے کا مجاز فرمایا:۔ہو سکتا ہے وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُ وَهُنَّ فِى الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ