فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 5
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام 5 کیوں آنحضرت علی اللہ نے اپنی ذمہ واری میں فرق ڈالا۔نبی کریم علی اللہ نے دو کام کئے۔اول قرآن سنا دیا اور پھر اپنے عمل سے دکھا دیا۔چنانچہ اوّل کیلئے خدا تعالیٰ نے فرمایا۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ اور دوسرے عمل کے متعلق یعنی سنت کے متعلق فرمایا دیا اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی اور دونوں کے مجموعہ اور نتیجہ کا نام اسلام ہوا۔اب اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ مسیح علیہ السلام کی وفات کے متعلق سنت دکھاؤ تو اس کا جواب یہی ہے کہ سنت موجود ہے۔آنحضرت علی اللہ نے خود مر کر دکھا دیا۔ورنہ اگر اوپر آسمان پر چڑھ جانا سنت انبیاء تھا تو آسمان پر اڑ جاتے۔مگر جیسے قرآن نے شہادت دی مسیح کی وفات پر اور آپ کی وفات پر اِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ آپ نے مر کر دکھا دیا اور مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کی تصدیق کر دی۔یہی وجہ ہے کہ پہلا اجماع آپ کی وفات پر حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کی نسبت ہوا۔حضرت ابوبکر کا استدلال کیسا لطیف تھا اور یہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے اس کو لطیف استدلال اور نبوت کے انوار کا حصہ دیا جاتا ہے اور وہ ملک مخفی رہتا ہے جب تک کہ وہ وقت نہ آجاوے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کیلئے ہوا۔غرض خلاصہ کلام یہ ہے کہ کتاب۔سنت اور حدیث کو ہرگز ہرگز ملانا نہیں چاہئے۔" فرمایا کہ:۔الحکم نمبر 11 جلد 6 مؤرخہ 24 / مارچ 1902ء صفحہ 2) " ہمارے نزدیک تین چیزیں ہیں ایک کتاب اللہ دوسرے سنت یعنی رسول اللہ صلی اللہ کا عمل اور تیسرے حدیث۔ہمارے مخالفوں نے دھوکا کھایا ہے کہ سنت اور حدیث کو باہم ملایا ہے۔ہمارا مذہب حدیث کے متعلق یہی ہے کہ جب تک وہ قرآن اور سنت کے صریح مخالف اور معارض نہ ہو اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے خواہ وہ محدثین کے نزدیک ضعیف سے ضعیف کیوں نہ ہو۔جبکہ ہم اپنی زبانوں میں دعائیں کر لیتے ہیں تو کیوں حدیث میں آئی ہوئی دعا ئیں نہ کریں جبکہ وہ قرآن شریف کے مخالف بھی نہیں۔قرآن شریف پر حدیث کو قاضی بنانا سخت غلطی ہے اور قرآن شریف کی بے ادبی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک بڑھیا نے حدیث پیش کی تو انہوں نے یہی کہا کہ میں ایک بڑھیا کیلئے