فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 178
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 178 ایک شخص نے یوں اعتراض کیا کہ اسلام میں جو چار بیویاں رکھنے کا حکم ہے یہ بہت خراب ہے اور ساری بداخلاقیوں کا سر چشمہ ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔" چار بیویاں رکھنے کا حکم تو نہیں دیا بلکہ اجازت دی ہے کہ چار تک رکھ سکتا ہے۔اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ چار ہی کو گلے کا ڈھول بنالے۔قرآن کا منشا تو یہ ہے کہ چونکہ انسانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں اس واسطے ایک سے لے کر چار تک کی اجازت دے دی ہے۔ایسے لوگ جو ایک اعتراض کو اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں اور پھر وہ خود اسلام کا دعوی بھی کرتے ہیں، میں نہیں جانتا کہ ان کا ایمان کیسے قائم رہ جاتا ہے۔وہ تو اسلام کے معترض ہیں۔یہ نہیں دیکھتے کہ ایک مقنن کو قانون بنانے کے وقت کن کن باتوں کا لحاظ ہوتا ہے۔بھلا اگر کسی شخص کی ایک بیوی ہے اسے جزام ہو گیا ہے یا آتشک میں مبتلا ہے یا اندھی ہوگئی ہے یا اس قابل ہی نہیں کہ اولاد اس سے حاصل ہو سکے وغیرہ وغیرہ عوارض میں مبتلا ہو جاوے تو اس حالت میں اب اس خاوند کو کیا کرنا چاہئے۔کیا اسی بیوی پر قناعت کرے۔ایسی مشکلات کے وقت وہ کیا تدبیر پیش کرتے ہیں۔یا بھلا اگر وہ کسی قسم کی بدمعاشی زناوغیرہ میں مبتلا ہوگئی تو کیا اب اس خاوند کی غیرت تقاضا کرے گی کہ اسی کو اپنی پر عصمت بیوی کا خطاب دے رکھے۔خدا جانے یہ اسلام پر اعتراض کرتے وقت اندھے کیوں ہو جاتے ہیں۔یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ مذہب ہی کیا ہے جو انسانی ضروریات کو ہی پورا نہیں کر سکتا۔اب ان مذکورہ حالتوں میں عیسویت کیا تدبیر بتاتی ہے۔قرآن شریف کی عظمت ثابت ہوتی ہے کہ انسانی کوئی ایسی ضرورت نہیں جس کا پہلے سے ہی اس نے قانون نہ بنا دیا ہو۔اب تو انگلستان میں بھی ایسی مشکلات کی وجہ سے کثرت ازدواج اور طلاق شروع ہوتا جاتا ہے۔ابھی ایک لارڈ کی بابت لکھا تھا کہ اس نے دوسری بیوی کر لی آخر اسے سزا بھی ہوئی مگر وہ امریکہ میں جارہا۔غور سے دیکھو کہ انسان کے واسطے ایسی ضرورتیں پیش آتی ہیں یا نہیں کہ یہ ایک سے زیادہ بیویاں کرلے۔جب ایسی ضرورتیں ہوں اور ان کا علاج نہ ہو تو یہی نقص ہے جس کے پورا کرنے کو قرآن شریف سی اتم اکمل کتاب بھیجی ہے۔" الحکم نمبر 8 جلد 7 مؤرخہ 28 فروری 1903 ء صفحه (15)