فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 166

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 166 جاوے اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مدنظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بد نیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون۔" ( اخبار بد نمبر 16 جلد 2 مؤرخہ 8 رمئی 1903ء صفحہ 123 ) مہر کا بخشوانا سوال:۔میری بیوی فوت ہو گئی ہے۔میں نے مہر نہ اس کو دیا نہ بخشوایا۔اب کیا کروں؟ جواب:۔" مہر اس کا ترکہ ہے اور آپ کے نام قرض ہے۔آپ کو ادا کرنا چاہئے۔اور اس کی یہ صورت ہے کہ اس کو شرعی حصص کے مطابق اس کے دوسرے مال کے ساتھ تقسیم کیا جاوے جس میں یک حصہ خاوند کا بھی ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے نام پر صدقہ دیا جاوے۔" (اخبار بدر نمبر 4 جلد 2 مؤرخہ 26 جنوری 1906 صفحہ 6) سودی روپیہ سے زیور بنوانا سوال:۔ایک عورت تنگ کرتی ہے کہ سودی روپیہ لے کر زیور بنادو اور اس کا خاوند غریب ہے؟ جواب:۔وہ عورت بڑی نالائق ہے جو خاوند کو زیور کیلئے تنگ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ سود لے کر بنادے۔پیغمبر خدا علی اللہ کو ایک دفعہ ایسا واقعہ پیش آیا اور آپ کی ازواج نے آپ سے بعض دنیوی خواہشات کی تکمیل کا اظہار کیا تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ان کو یہ فقیرانہ زندگی منظور نہیں ہے تو تو ان کو کہہ دے کہ آؤ تم کو الگ کر دوں۔انہوں نے فقیرانہ زندگی اختیار کی آخر نتیجہ یہ ہوا کہ وہی بادشاہ ہو گئیں۔وہ صرف خدا کی آزمائش تھی۔" سوال : ایک عورت اپنا مہر نہیں بخشتی۔جواب:۔" یہ عورت کا حق ہے اسے دینا چاہئے۔اوّل تو نکاح کے وقت ہی ادا کرے ورنہ بعد ازاں ادا کر دینا چاہئے۔پنجاب اور ہندوستان میں یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر اپنا مہر بخش دیتی ہیں، یہ صرف رواج ہے جو مروت پر دلالت کرتا ہے۔" سوال :۔اور جن عورتوں کا مہر مچھر کی دومن چربی ہو وہ کیسے ادا کیا جاوے؟