فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 146
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 146 " قرآن کریم سے تو یہی معلوم ہوتا کہ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أيام أخر یعنی مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے، اس میں امر ہے۔یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ جس کا اختیار ہو رکھ لے جس کا اختیار ہو نہ رکھے۔میرے خیال میں مسافر کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے اور چونکہ عام طور پر اکثر لوگ رکھ لیتے ہیں اس لئے اگر کوئی تعامل سمجھ کر رکھ لے تو کوئی حرج نہیں مگر عِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ اخر کا پھر بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔سفر میں تکالیف اُٹھا کر جو انسان روزہ رکھتا ہے تو گویا اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے، اس کی اطاعت امر سے خوش نہیں کرنا چاہتا یہ غلطی ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت امر اور نہی میں سچا ایمان ہے۔" الحکم نمبر 4 جلد 3 مؤرخہ 31 / جنوری 1899 صفحہ 7) (۱۹۷) بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ:۔جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام میں روزہ رکھتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔مرض سے صحت پائے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔خدا کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئے۔کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا ہو۔بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتوی لازم آئے گا۔" فرمایا:۔اخبار بدر نمبر 42 جلد 6 مؤرخہ 17 اکتوبر 1907ء صفحه 7 (۱۹۸) روزه و خدمت والدین " حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں۔ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضان گزر گیا پر اس کے گناہ نہ بخشے گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گزر گئے اور اس