فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 128
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 128 ہے کہ خدا اس شخص کے گناہ جو اس کی محبت میں اپنے تئیں قائم کرتا ہے دبائے رکھے اور بشریت کی جڑھ نگی نہ ہونے دے۔بلکہ الوہیت کی چادر میں لے کر اپنی قدوسیت میں سے حصہ دے۔یا اگر کوئی جڑھ گناہ کے ظہور سے ننگی ہوگئی ہو پھر اس کو ڈھانک دے۔اور اس کی برہنگی کے بداثر سے بچائے۔" ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 347,346 مطبوعہ نومبر 1984 ء ) (۱۶۲) استخاره وسلم فرمایا کہ:۔" آج کل اکثر مسلمانوں نے استخارہ کی سنت کو ترک کر دیا ہے حالانکہ آنحضرت علیم اللہ پیش آمدہ امر میں استخارہ فرما لیا کرتے تھے۔سلف صالحین کا بھی یہی طریقہ تھا۔چونکہ دہریت کی ہوا پھیلی ہوئی ہے اس لئے لوگ اپنے علم و فضل پر نازاں ہو کر کوئی کام شروع کر لیتے ہیں اور پھر نہاں در نہاں اسباب سے جن کا انہیں علم نہیں ہوتا ہے نقصان اُٹھاتے ہیں۔اصل میں یہ استخارہ ان بد رسومات کی عوض میں رائج کیا گیا تھا جو مشرک لوگ کسی کام کی ابتداء سے پہلے کیا کرتے تھے لیکن اب مسلمان اسے بھول گئے۔حالانکہ استخارہ سے ایک عقل سلیم عطا ہوتی ہے جس کے مطابق کام کرنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔بعض لوگ کوئی کام خود ہی اپنی رائے سے شروع کر بیٹھتے ہیں اور پھر درمیان میں آکر ہم سے صلاح پوچھتے ہیں۔ہم کہتے ہیں جس علم و عقل سے پہلے شروع کیا تھا اسی سے نبھا ئیں۔اخیر میں مشورہ کی کیا ضرورت۔" ( اخبار بدر نمبر 24 جلد 6 مؤرخہ 13 جون 1907 ء صفحہ 3) (۱۶۳) طریق بیعت سوال ہوا کیا آپ دوسرے صوفیا اور مشائخ کی طرح عام طور پر بیعت لیتے ہیں یا بیعت لینے کیلئے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے؟ فرمایا:۔" ہم تو امر الہی سے بیعت کرتے ہیں جیسا کہ ہم اشتہار میں بھی یہ الہام لکھ چکے ہیں کہ إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ " (الحکم نمبر 19 جلد 5 مؤرخہ 24 مئی 1901ء صفحہ 8)