فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 127
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 127 "استغفار بہت پڑھا کرو۔انسان کے واسطے غموں سے سبک ہونے کے واسطے یہ طریق ہے۔" الحکم نمبر 3 جلد 5 مؤرخہ 24 جنوری 1901 ء صفحہ 11) (۱۶۰) ایک دعا اور اس کا جواز میاں محمد دین احمدی کباب فروش لاہور ( حال ساکن موضع دعورہ دھڑی بٹاں ریاست جموں ) نے ایک عریضہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں بھیجا جس میں لکھا تھا " یا حضرت میں نے چند روز سے محض رضائے الہی کیلئے جناب باری تعالیٰ میں یہ دعا شروع کی ہے کہ میری عمر میں سے دس سال حضرت اقدس مسیح موعود کو دیجاوے کیونکہ اسلام کی اشاعت کے واسطے میری زندگی ایسی مفید نہیں۔کیا ایسی دعا مانگنا جائز ہے؟" ہے۔" حضرت اقدس نے جواب میں تحریر فرمایا:۔" ایسی دعا میں مضائقہ نہیں بلکہ ثواب کا موجب اخبار بد نمبر 23 جلد 6 مؤرخہ 6 جون 1907 ء صفحہ 8) فرمایا:۔(۱۶۱) استغفار "استغفار جس کے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔قرآن شریف میں دو معنے پر آیا ہے۔ایک تو یہ کہ اپنے دل کو خدا کی محبت میں محکم کر کے گناہوں کے ظہور کو جو علیحدگی کی حالت میں جوش مارتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے تعلق کے ساتھ روکنا اور خدا میں پیوست ہو کر اس سے مدد چاہنا۔یہ استغفار تو مقربوں کا ہے جو ایک طرفۃ العین خدا سے علیحدہ ہونا اپنی تباہی کا موجب جانتے ہیں،اس لئے استغفار کرتے ہیں تا خدا اپنی محبت میں تھامے رکھے۔اور دوسری قسم استغفار کی یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر خدا کی طرف بھاگنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے۔تا پاک نشو و نما پا کر گناہ کی خشکی اور زوال سے بچ جائے اور ان دونوں صورتوں کا نام استغفار رکھا گیا ہے۔کیونکہ غفر جس سے استغفار نکلا ہے ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔گویا استغفار سے یہ مطلب