فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 123
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 123 إِلَّا الله کی آواز پہنچادی۔غرض سوانحہ نبویہ کو خوش آوازی سے لوگوں پر ظاہر کر نا حقیقی مومنوں کا فرض ہے۔وہ مومن ہی کا ہے کا ہے جس میں سوانحہ نبویہ کی عزت نہیں۔دوسرے لفظوں میں اسی جلسہ اظہار سوانحہ کا نام مجلس مولود ہے۔اس جلسہ اظہار سوانحہ میں در حقیقت بڑے فوائد ہیں۔ان سوانحہ کے سننے سے محبان رسول کا وقت خوش ہوگا اور ہر ایک مرد طالب جب ان سوانحہ کے ذریعہ سے ہمت اور صدق اور استقامت کے کام سنے گا تو اس کو بھی ہمت اور صدق اور استقامت کی طرف شوق بڑھے گا اور اس کی طلب زیادہ ہوگی اور مسلمان کہلا کر جو کچھ دین کی راہ میں کسل اور ضعف اور بزدلی رکھتا ہے سوانحہ نبویہ علیہ الصلوۃ والسلام سن کر خوش ہوگا اور اپنے اسلام پر افسوس کرے گا اور خدا تعالیٰ سے چاہے گا کہ جس نبی کے اقتدا کا اس کو دعویٰ ہے اس کی سرگرمی اور اس کا عشق اور اس کی ہمدردی اس کو بھی نصیب ہو اور جس طرح ایک شخص جو ایک جنگل میں اکیلا بیٹھا ہو اور درندوں اور دوسری بلاؤں سے ڈر رہا ہو اور نا گاہ اس کو ایک قافلہ نظر آیا جس میں صدہا سپاہی ہیں۔اب دیکھنا چاہئے کہ وہ شخص اس قافلہ کو پاکرکس طرح قوی دل ہو جائے گا۔ایسا ہی سوانحہ طیبہ نبویہ ایک لشکر مسلح کی مانند ہیں جن کے سننے سے دل قوی ہو جاتا ہے اور تخویفات شیطانی سے نجات ملتی ہے اور حدیث صحیح میں ہے کہ عِنْدَ ذِكْرِ الصَّالِحِيْنَ تَتَنَزَّلُ الرَّحْمَة یعنی ذکر صالحین کے وقت رحمت الہی نازل ہوتی ہے۔پھر نبی کریم صلی اللہ کے ذکر کے وقت کس قدر نازل ہوگی۔ہاں اس جلسہ کو بدعات سے محفوظ رکھنا چاہئے تا بجائے ثواب کے گناہ پیدا نہ ہو۔صرف سوانحہ نبویہ کا ذکر ہو اور درود شریف اور تسبیح ہو اگر کسی قسم کا شرک یا کسی قسم کی بدعت درمیان ہو تو یہ ہرگز جائز نہیں۔لیکن جو میں نے ذکر کیا ہے وہ نہ صرف جائز بلکہ میری سمجھ میں ضروریات سے ہے۔" فرمایا:۔( الحکم نمبر 14 و 15 جلد 8 مؤرخہ 30 را پریل و 10 رمئی 1904 صفحہ 3) (۱۵۴) بدنی و مالی عبادتیں "عبادات دو قسم کی ہوتی ہیں عبادات مالی اور بدنی۔مالی عبادتیں تو اس کیلئے ہیں جس کے پاس مال ہو اور جس کے پاس نہیں وہ معذور ہے۔بدنی عبادتیں بھی انسان جوانی ہی میں کر سکتا ہے ورنہ ۶۰