فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 116
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 116 اور مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک تھی مگر اب جس قبر کو دیکھو وہ حاجت روا ٹھہرائی گئی ہے۔میں اس حالت کو دیکھتا ہوں تو دل میں درد اٹھتا ہے مگر کیا کہیں کس کو جا کر سنائیں۔دیکھو قبر پر اگر ایک شخص ہیں برس بھی بیٹھا ہوا پکارتا رہے تو اس قبر سے کوئی آواز نہیں آئے گی مگر مسلمان ہیں کہ قبروں پر جاتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔میں کہتا ہوں وہ قبر خواہ کسی کی بھی ہو اس سے کوئی مراد بر نہیں آ سکتی۔حاجت روا اور مشکل کشا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور کوئی اس صفت کا موصوف نہیں۔قبر سے کسی آواز کی امید مت رکھو برخلاف اس کے اگر اللہ تعالیٰ کو اخلاص اور ایمان کے ساتھ دن میں دس مرتبہ بھی پکارو تو میں یقین رکھتا ہوں اور میرا اپنا تجربہ ہے کہ وہ دس دفعہ ہی آواز سنتا اور دس ہی دفعہ جواب دیتا ہے لیکن یہ شرط ہے کہ پکارے اس طرح پر جو پکارنے کا حق ہے۔ہم سب ابرار اخیار امت کی عزت کرتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں لیکن اس کی محبت اور عزت کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ ہم ان کو خدا بنا لیں اور وہ صفات جو خدا تعالیٰ میں ہیں ان میں یقین کر لیں۔میں بڑے دعوی کے ساتھ کہتا ہوں کہ وہ ہماری آواز نہیں سنتے اور اس کا جواب نہیں دیتے۔دیکھو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ایک گھنٹہ میں ۷۲ آدمی آپ کے شہید ہو گئے۔اس وقت آپ سخت نرغہ میں تھے۔اب طبعاً ہر ایک شخص کا کانشنس گواہی دیتا ہے کہ وہ اس وقت جب کہ ہر طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے اپنے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوں گے کہ اس مشکل سے نجات مل جاوے لیکن وہ دعا اس وقت منشاء الہی کے خلاف تھی اور قضاء و قدر اس کے مخالف تھے اس لئے وہ اسی جگہ شہید ہو گئے۔اگر ان کے قبضہ واختیار میں کوئی بات ہوتی تو انہوں نے کونسا دقیقہ اپنے بچاؤ کیلئے اُٹھا رکھا تھا مگر کچھ بھی کارگر نہ ہوا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قضاء وقدر کا سارا معاملہ اور تصرف تام اللہ تعالی ہی کے ہاتھ میں ہے جو اس قدر ذخیرہ قدرت کا رکھتا ہے اور حی و قیوم ہے۔اس کو چھوڑ کر جو مردوں اور عاجز بندوں کی قبروں پر جا کر ان سے مرادیں مانگتا ہے اس سے بڑھ کر بے نصیب کون ہو سکتا ہے؟ انسان کے سینہ میں دو دل نہیں ہوتے ایک ہی دل ہے وہ دو جگہ محبت نہیں کر سکتا۔اس لئے اگر کوئی زندوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتا ہے وہ حفظ مراتب نہیں کرتا اور یہ مشہور بات ہے۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی۔