فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 110
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 110 (۱۳۹) زیارت قبور صبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام مردانہ مکان میں تشریف لائے۔دہلی کے سیر کا ذکر درمیان میں آیا۔فرمایا:۔لہو ولہب کے طور پر پھر نا تو درست نہیں البتہ یہاں بعض بزرگ اولیاء اللہ کی قبریں ہیں ان پر ہم بھی جائیں گے۔عاجز کو ( یعنی مفتی محمد صادق۔ناقل ) کو فر مایا کہ ایسے بزرگوں کی فہرست بناؤ تا کہ جانے کے متعلق انتظام کیا جائے۔" حاضرین نے یہ نام لکھائے :۔ا۔شاہ ولی اللہ صاحب ۲۔خواجہ نظام الدین صاحب ۳۔جناب قطب الدین صاحب ۴۔خواجہ باقی باللہ صاحب ۵ - خواجہ میر درد صاحب ۶ - جناب نصیر الدین صاحب چراغ دہلی۔چنانچہ گاڑیوں کا انتظام کیا گیا اور حضرت بمعہ خدام گاڑیوں میں سوار ہو کر سب سے اول حضرت خواجہ باقی باللہ کے مزار پر پہنچے۔راستہ میں حضرت نے زیارت قبور کے متعلق فرمایا:۔" قبرستان میں ایک روحانیت ہوتی ہے اور صبح کا وقت زیارت قبور کیلئے ایک سنت ہے۔یہ ثواب کا کام ہے اور اس سے انسان کو اپنا مقام یاد آ جاتا ہے۔انسان اس دنیا میں مسافر ہے۔آج زمین پر ہے تو کل زمین کے نیچے ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب انسان قبر پر جاوے تو کہے اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُوْرِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُسْلِمِيْنَ وَإِنَّا إِنْشَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلاحِقُوْنَ " حضرت باقی باللہ کی مزار پر جب ہم پہنچے تو وہاں بہت سی قبریں ایک دوسری کے قریب قریب اور اکثر زمین کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔میں نے غور سے دیکھا کہ حضرت اقدس نہایت احتیاط سے ان قبروں کے درمیان سے چلتے تھے تا کہ کسی کے اوپر پاؤں نہ پڑے۔قبر خواجہ صاحب پر پہنچ کر آپ نے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا کی اور دعا کو لمبا کیا۔بعد دعا میں نے عرض کی کہ قبر پر کیا دعا کرنی چاہئے تو فرمایا کہ:۔"صاحب قبر کے واسطے دعائے مغفرت کرنی چاہئے اور اپنے واسطے بھی خدا سے دعا مانگنی چاہئے۔انسان ہر وقت خدا کے حضور دعا کرنے کا محتاج ہے۔" فرمایا:۔