فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 109

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 109 جنازہ پڑھا جاوے کہ نہ؟ فرمایا کہ:۔یہ فرض کفایہ ہے اگر کنبہ میں سے ایک آدمی بھی چلا جاوے تو ہو جاتا ہے مگر اب یہاں ایک تو طاعون زدہ ہے کہ جس کے پاس جانے سے خدا روکتا ہے دوسرے وہ مخالف ہے خواہ مخواہ تداخل جائز نہیں ہے خدا فرماتا ہے کہ تم ایسے لوگوں کو بالکل چھوڑ دو اگر چاہے گا تو ان کو خود دوست بنا دے گا یعنی مسلمان ہو جاویں گے۔خدا نے منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو چلایا ہے مداہنہ سے ہرگز فائدہ نہ ہوگا بلکہ اپنے حصہ ایمان کا بھی گواؤ گے۔" (اخبار بدر نمبر 17 جلد 2 مؤرخہ 15 مئی 1903 ء صفحہ 130 ) (۱۳۷) اُجرت پر امام صلوۃ ٹھہرانا ایک مخلص اور معزز خادم نے عرض کی کہ حضور میرے والد صاحب نے ایک مسجد بنائی تھی وہاں جو امام ہے اس کو کچھ معاوضہ وہ دیتے تھے اس غرض سے کہ مسجد آبادر ہے وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں۔میں نے اس کا معاوضہ بدستور رکھا ہے۔اب کیا کیا جاوے؟ فرمایا:۔خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی جو روپیہ کیلئے نماز پڑھتا ہے اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔نماز تو خدا کیلئے ہے۔اگر وہ چلا جائے گا تو خدا تعالیٰ ایسے آدمی بھیج دے گا جو محض خدا کیلئے نماز پڑھیں اور مسجد کو آباد کریں۔ایسا امام جو محض لالچ کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے میرے نزدیک خواہ وہ کوئی ہو احمدی یا غیر احمدی اس کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی۔امام اتقی ہونا چاہئے۔" فرمایا:۔الحکم نمبر 39 جلد 9 مؤرخہ 10 نومبر 1905 صفحہ 6) (۱۳۸) رمضان میں تراویح کیلئے حافظ مقرر کرنا بعض لوگ رمضان میں ایک حافظ مقرر کر لیتے ہیں اور اس کی تنخواہ بھی ٹھہرا لیتے ہیں یہ درست نہیں۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی محض نیک نیتی اور خدا ترسی سے اس کی خدمت کر دے تو یہ جائز الحکم نمبر 39 جلد 9 مؤرخہ 10 نومبر 1905 صفحه 6