فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 97
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 40 97 (۱۱۶) تصاویر کی طرف کثرت توجہ پر حضرت مسیح موعود کی نارضامندی مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص کی تحریری درخواست بذریعہ کارڈ کے ان الفاظ میں پیش کی کہ یہ شخص حضور کی تصویر کو خط و کتابت کے کارڈوں پر چھاپنا چاہتے ہیں اور اجازت طلب کرتے ہیں۔اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ:۔" میں تو اسے نا پسند کرتا ہوں۔" یہ الفاظ جا کر میں نے اپنے کانوں سے سنے لیکن حضرت مولوی نورالدین صاحب و حکیم فضل دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس سے پیشتر آپ نے یہ الفاظ فرمائے کہ :۔یہ بدعت بڑھتی جاتی ہے۔میں اسے نا پسند کرتا ہوں۔" ( اخبار بدر نمبر 42,41 جلد 3 مؤرخہ یکم و 08 نومبر 1904 ، صفحہ 9) (۱۱۷) غیر احمدی کا جنازہ سوال ہوا کہ جو آدمی اس سلسلہ میں داخل نہیں اس کا جنازہ جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔"اگر اس سلسلہ کا مخالف تھا اور ہمیں بُرا کہتا اور سمجھتا تھا تو اس کا جنازہ نہ پڑھو اور اگر خاموش تھا اور درمیانی حالت میں تھا تو اس کا جنازہ پڑھ لینا جائز ہے بشرطیکہ نماز جنازہ کا امام تم میں سے کوئی ہوورنہ کوئی ضرورت نہیں۔" فرمایا کہ:۔(الحکم نمبر 26 جلد 6 مؤرخہ 30 را پریل 1902ء صفحہ 7 ) "اگر متوفی بالجبر مکفر اور مکذب نہ ہو تو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں کیونکہ علام الغیوب خدا کی پاک ذات ہے۔" اخبار بدر نمبر 14 جلد 2 مؤرخہ 24 اپریل 1903 صفحه 1 (۱۱۸) مردہ کی اسقاط سوال ہوا کہ مُلا لوگ مردہ کے پاس کھڑے ہو کر اسقاط کراتے ہیں کیا اس کا کوئی طریق جائز