فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 96
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 96 96 کر خطوط میں استعمال کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:۔"میرے نزدیک یہ درست نہیں بدعت پھیلانے کا یہ پہلا قدم ہے۔ہم نے جو تصویر فوٹو لینے کی اجازت دی تھی وہ اس واسطے تھی کہ یورپ امریکہ کے لوگ جو ہم سے بہت دور ہیں اور فوٹو سے قیافہ شناسی کا علم رکھتے ہیں اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کیلئے ایک روحانی فائدہ کا موجب ہو۔کیونکہ جیسا تصویر کی حرمت ہے اس قسم کی حرمت عموم نہیں رکھتی بلکہ بعض اوقات مجتہد اگر دیکھے کہ کوئی فائدہ ہے اور نقصان نہیں تو وہ حسب ضرورت اس کو استعمال کر سکتا ہے۔خاص اس یورپ کی ضرورت کے واسطے اجازت دی گئی۔چنانچہ بعض خطوط یورپ ، امریکہ سے آئے جن میں لکھا تھا کہ تصویر کے دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل وہی مسیح ہے۔ایسا ہی امراض کی تشخیص کے واسطے بعض وقت تصویر سے بہت مددمل سکتی ہے۔شریعت میں ہر ایک امر جو مَا يَنْفَعُ النَّاسَ کے نیچے آئے اس کو دیر پا رکھا جاتا ہے لیکن یہ جو کارڈوں پر تصویریں بنتی ہیں ان کو خریدنا نہیں چاہئے بت پرستی کی جڑ تصویر ہے۔جب انسان کسی کا معتقد ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ تعظیم تصویر کی بھی کرتا ہے۔ایسی باتوں سے بچنا چاہئے اور ان سے دور رہنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ ہماری جماعت پر سر نکالتے ہی آفت پڑ جائے۔میں نے اس ممانعت کو کتاب میں درج کر دیا ہے جو زیر طبع ہے۔جو لوگ جماعت کے اندر ایسا کام کرتے ہیں ان پر ہم سخت ناراض ہیں، ان پر خدا ناراض ہے۔ہاں اگر کسی طریق سے کسی انسان کی روح کو فائدہ ہو تو وہ طریق مستی ہے۔" ایک کارڈ تصویر والا دکھایا گیا۔دیکھ کرفرمایا:۔" یہ بالکل ناجائز ہے۔" ایک شخص نے اس قسم کے کارڈوں کا ایک بنڈل لا کر دکھایا کہ میں نے یہ تاجرانہ طور پر فروخت کے واسطے خرید کئے تھے اب کیا کروں؟ فرمایا:۔ان کو جلا دو اور تلف کر دو اس میں اہانت دین اور اہانت شرع ہے۔نہ ان کو گھر میں رکھو اس سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ اس سے آخر میں بت پرستی پیدا ہوتی ہے۔اس تصویر کی جگہ پر اگر تبلیغ کا کوئی فقرہ ہوتا تو خوب ہوتا۔" الحکم نمبر 35 جلد 9 مؤرخہ 10 اکتوبر 1905 صفحہ 3)