پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام — Page 20
اعلیٰ تعلیم اور حیران کن کامیابیاں عبد السلام اب اعلیٰ نمبروں میں ایم۔اے کر چکے تھے۔ان کے والدین کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا مقابلے کا امتحان دے کر ڈپٹی کمشنر بنے لیکن ان دنوں دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے مقابلے کا امتحان ملتوی ہو گیا۔سلام کے دل میں بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی لیکن والد صاحب کی تھوڑی آمدنی کی وجہ سے بیرون ملک جانا ممکن نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ جو ہر چیز پر قادر ہے اس نے اس ناممکن بات کو اس طرح ممکن بنادیا کہ 15 لاکھ روپے کی رقم جو ایک مشہور زمیندار خضر حیات ٹوانہ نے جنگ عظیم میں انگریزوں کی مدد کے لیے اکھٹی کی تھی وہ 1945ء میں جنگ بند ہونے کی وجہ سے بچ گئی اور 1946 ء میں انہوں نے پنجاب کا وزیر اعظم بن کر اس رقم میں سے چھوٹے زمینداروں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے وظیفے دینے کا اعلان کر دیا۔عبد السلام کو اس فنڈ میں سے 550 روپے ماہوار وظیفہ ملاستمبر 1946ء کو عبد السلام وظیفہ لے کر انگلستان کی کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہو گئے۔خدا کی قدرت کہ اس سے اگلے سال ہندوستان تقسیم ہو گیا اور عبدالسلام کے سوا اس فنڈ سے کسی اور کو وظیفہ نہ مل سکا۔اکتوبر 1946ء سے عبدالسلام نے کیمبرج میں ریاضی کا تین سالہ بی۔اے آنرز کا کورس شروع کر دیا جسے ٹرائی پوز (Tripos) کہتے ہیں۔اس کورس کے دوران سلام روزانہ 20