فقہ المسیح — Page 41
فقه المسيح 41 علم فقہ اور فقہاء ہے جو مولوی عبداللہ چکڑالوی کے خلاف ہے۔لکھتے لکھتے ایک مقام پر لکھتا ہے کہ ہم اس کو پرافٹ آف قادیان کے ساتھ ملاتے ہیں۔یعنی کفر کا فتوی دیتے ہیں چنانچہ اس کے نیچے پھر کفر کا فتویٰ مرتب کیا ہے۔اس پر حضرت اقدس نے دریافت فرمایا کہ: وجوہ کفر کیا ہیں؟ مولوی چکڑالوی کہتا ہے کہ حدیث کی کچھ ضرورت نہیں بلکہ حدیث کا پڑھنا ایسا ہے، جیسے کہ گتے کو ہڈی کا چسکا ہو سکتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ قرآن کے لانے میں اس سے بڑھ کر نہیں جیسا کہ ایک چپڑاسی یا مذکوری کا درجہ پروانہ سرکاری لانے میں ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا:۔ایسا کہنا کفر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بے ادبی کرتا ہے۔احادیث کو ایسی حقارت سے نہیں دیکھنا چاہیے۔کفار تو اپنے بتوں کے جنتر منتر کو یاد رکھتے ہیں۔تو کیا مسلمانوں نے اپنے رسول کی باتوں کو یاد نہ رکھا۔قرآن شریف کے پہلے سمجھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور اس پر آپ عمل کرتے تھے اور دوسروں کو عمل کراتے تھے۔یہی سنت ہے اور اسی کو تعامل کہتے ہیں اور بعد میں ائمہ نے نہایت محنت اور جانفشانی کے ساتھ اس سنت کو الفاظ میں لکھا اور جمع کیا اور اس کے متعلق تحقیقات اور چھان بین کی۔پس وہ حدیث ہوئی دیکھو بخاری اور مسلم کو ، کیسی محنت کی ہے۔آخر انہوں نے اپنے باپ دادوں کے احوال تو نہیں لکھے۔بلکہ جہاں تک بس چلا صحت وصفائی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال الحکم 17 راگست 1902 ، صفحہ 11) وافعال یعنی سنت کو جمع کیا۔وہابیوں کی ظاہر پرستی حضرت اقدس نے ان وہابیوں کے اخلاق اور ادب رسول پر اپنا ایک ذکر سنایا کہ ایک دفعہ جب آپ امرتسر میں تھے تو غزنوی گروہ کے چند مولویوں نے آپ کو چائے دی چونکہ حضرت