فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 611

فقہ المسیح — Page 31

فقه المسيح 31 علم فقہ اور فقہاء تَفَقَّهُ فِی الدین کی ضرورت فرمایا علم فقہ اور فقہاء ہماری جماعت کو علم دین میں تفقہ پیدا کرنا چاہئے۔مگر اس کے وہ معنے نہیں جو عام ملاں لوگوں نے سمجھ رکھے ہیں کہ استنجاء وغیرہ کے چند مسائل آگئے وہ بھی تقلیدی رنگ میں فقیہ بن بیٹھے۔بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ آیات قرآنی واحادیث نبوی اور ہمارے کلام میں تدبر کریں۔قرآنی معارف و حقائق سے آگاہ ہوں۔(بدر 25 اپریل 1907ء صفحہ 4) ائمہ اربعہ اسلام کے لئے چار دیواری حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک مولوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور الگ ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔جب وہ آپ سے ملا تو باتوں باتوں میں اس نے کئی دفعہ یہ کہا کہ میں حنفی ہوں اور تقلید کو اچھا سمجھتا ہوں وغیرہ ذالک۔آپ نے اس سے فرمایا کہ ہم کوئی حنفیوں کے خلاف تو نہیں ہیں کہ آپ بار بار اپنے حنفی ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔میں تو ان چار اماموں کو مسلمانوں کے لئے بطور ایک چار دیواری کے سمجھتا ہوں جس کی وجہ سے وہ منتشر اور پراگندہ ہونے سے بچ گئے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ ہر شخص اس بات کی اہلیت نہیں رکھتا کہ دینی امور میں اجتہاد کرے۔پس اگر یہ ائمہ نہ ہوتے تو ہر اہل و نا اہل آزادانہ طور پر اپنا طریق اختیار کرتا۔اور امت محمدیہ میں ایک اختلاف عظیم کی صورت قائم ہو جاتی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان چار اماموں نے جو اپنے علم و معرفت اور تقویٰ و طہارت کی وجہ سے اجتہاد کی اہلیت رکھتے تھے۔