فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 611

فقہ المسیح — Page 15

فقه المسيح 15 فقہ احمدیہ کے مآخذ کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کی نسبت حکم دیتے ہیں مگر ان کا کسی حدیث کی نسبت یہ کہنا کہ یہ صحیح ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ حدیث من كل الوجوه مرتبہ ثبوت کامل تک پہنچ گئی ہے جس میں امکان غلطی کا نہیں بلکہ ان کا مطلب صحیح کہنے سے صرف اس قدر ہوتا ہے کہ وہ بخیال ان کے ان آفات اور عیوب سے مبرا ہے جو غیر صحیح حدیثوں میں پائی جاتی ہیں اور ممکن ہے کہ ایک حدیث باوجود صحیح ہونے کے پھر بھی واقعی و حقیقی طور پر صحیح نہ ہو۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 26،25) اگر احادیث کا مرتبہ ظنی ہے تو احکام صوم و صلوۃ کو بھی قطنی کیوں نہ سمجھا جائے علم حدیث ایک فنی علم ہے جو مفید ظن ہے۔اگر کوئی اس جگہ یہ اعتراض کرے کہ اگر احادیث صرف مرتبه طن تک محدود ہیں تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ صوم وصلوٰۃ و حج وزکوۃ وغیرہ اعمال جو محض حدیثوں کے ذریعہ سے مفصل طور پر دریافت کئے گئے ہیں وہ سب ظنی ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بڑے دھوکے کی بات ہے کہ ایسا سمجھا جائے کہ یہ تمام اعمال محض روایتی طور پر دریافت کئے گئے ہیں وبس۔بلکہ ان کے یقینی ہونے کا یہ موجب ہے کہ سلسلہ تعامل ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اگر فرض کر لیں کہ یہ فن حدیث دنیا میں پیدا نہ ہوتا پھر بھی یہ سب اعمال و فرائض دین سلسله تعامل کے ذریعہ سے یقینی طور پر معلوم ہوتے۔خیال کرنا چاہئے کہ جس زمانہ تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں کیا اس وقت لوگ حج نہیں کرتے تھے؟ یا نماز نہیں پڑھتے تھے؟ یا ز کوۃ نہیں دیتے تھے؟ ہاں اگر یہ صورت پیش آتی کہ لوگ ان تمام احکام و اعمال کو یک دفعہ چھوڑ بیٹھتے اور صرف روایتوں کے ذریعہ سے وہ باتیں جمع کی جاتیں تو بے شک یہ درجہ یقینی ثبوت تام جواب ان میں پایا جاتا ہے ہرگز نہ ہوتا سو یہ ایک دھوکہ ہے کہ ایسا خیال کر لیا جائے کہ احادیث کے ذریعہ سے صوم وصلوٰۃ وغیرہ کی تفاصیل معلوم ہوئی ہیں بلکہ وہ سلسلہ تعامل کے ذریعہ سے معلوم ہوتی چلی آئی ہیں اور در حقیقت