فقہ المسیح — Page 537
فقه المسيح 537 التوائے جہاد کے متعلق حضرت اقدس کا فیصلہ جہاد کی حقیقت اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر فرما چکا ہے سید کونین مصطفے عیسی مسیح جنگوں کا کردے گا التوا جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا نوٹ: (ایک زبر دست الہام اور کشف ) آج 2 / جون 1900 ء کو بروز شنبہ بعد دو پہر دو بجے کے وقت مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ ایک ورق جو نہایت سفید تھا دکھلایا گیا۔اس کی آخری سطر میں لکھا تھا اقبال۔میں خیال کرتا ہوں کہ آخر سطر میں یہ لفظ لکھنے سے انجام کی طرف اشارہ تھا یعنی انجام با قبال 66 ہے۔پھر ساتھ ہی یہ الہام ہوا: ” قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے۔کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے۔“ اس کے یہ معنے مجھے سمجھائے گئے کہ عنقریب کچھ ایسے زبر دست نشان ظاہر ہو جائیں گے جس سے کافر کہنے والے جو مجھے کافر کہتے تھے الزام میں پھنس جائیں گے اور خوب پکڑے جائیں گے اور کوئی گریز کی جگہ اُن کے لئے باقی نہیں رہے گی۔یہ پیشگوئی ہے۔ہر ایک پڑھنے والا اس کو یا در کھے۔اس کے بعد 3 /جون 1900 ء کو بوقت ساڑھے گیارہ بجے یہ الہام ہوا: کافر جو کہتے تھے وہ نگونسار ہو گئے۔جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے یعنی کافر کہنے والوں پر خدا کی حجت ایسی پوری ہوگئی کہ اُن کے لئے کوئی عذر کی جگہ نہ رہی۔یہ آئندہ زمانہ کی خبر ہے کہ عنقریب ایسا ہوگا اور کوئی ایسی چمکتی ہوئی دلیل ظاہر ہو جائے گی کہ فیصلہ کر دے گی۔منہ