فقہ المسیح — Page 505
فقه المسيح 505 متفرق حیلہ اگر خدا سمجھائے تو شرع میں جائز ہے آیت خُذْ بِيَدِكَ ضِعْثًا فَاضْرِبُ بِهِ وَلَا تَحُنَتْ (ص:45) کی نسبت پوچھا گیا کہ اگر اس کے وہ معنی کئے جاویں جو عام مفسروں نے کئے ہیں تو شرع میں حیلوں کا باب کھل جائے گا۔آپ نے فرمایا: چونکہ حضرت ایوب کی بیوی بڑی نیک، خدمت گزار تھی اور آپ بھی متقی صابر تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی اور ایسی تدبیر سمجھا دی جس سے قسم بھی پوری ہو جائے اور ضرر بھی نہ پہنچے۔اگر کوئی حیلہ اللہ تعالیٰ سمجھائے تو وہ شرع میں جائز ہے کیونکہ وہ بھی اسی راہ سے آیا جس سے شرع آئی۔اس لیے کوئی ہرج کی بات نہیں۔ریڈیو کے ذریعے گانا سننا ( بدر 28 فروری 1907 صفحہ 6) سوال: حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں ریڈیو کے گانے کے متعلق حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب مرحوم کا فتویٰ پیش کیا گیا۔اس فتویٰ میں ان ہر دو علماء نے اس بات کا اظہار کیا کہ ریڈیو کے ذریعہ غیر عورت کا گانا سننا شریعت اسلامی کی رو سے ناجائز ہے؟ جواب: فرمایا میں اس بات کا قائل نہیں کہ کسی عورت کا گا نا آمنے سامنے ہو کر سنا یا بذریعہ ریڈیو یا گراموفون سننا ایک ہی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ مرزا افضل بیگ صاحب مرحوم کے گراموفون پر ایک غزل گائی جاتی تھی میرے سامنے سنی اور اس کو منع قرار نہیں دیا۔البتہ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اس طرح بُرا اثر پڑ سکتا ہے اور ضیاع وقت ہے اس بات کو روکا جاسکتا ہے مگر اس دلیل کی بناء پر اس کی حرمت کا فتویٰ میں دینے کو تیار نہیں ہوں۔فرمودات مصلح موعود درباره فقہی مسائل صفحه 387)