فقہ المسیح — Page 425
فقه المسيح 425 نئی ایجادات ہماری غرض تو اسلام کی دعوت میں مدد لینا تھا۔جو اہل یورپ کے مذاق پر ہوسکتی تھی۔اس کو تصور شیخ بنانا اور کچھ سے کچھ کہنا افتراء ہے۔جو مسلمان ہیں ان کو اس پر غصہ نہیں آنا چاہیے تھا۔جو کچھ خداور رسول نے فرمایا ہے وہ حق ہے۔اگر مشائخ کا قول خدا اور رسول کے فرمودہ کے موافق نہیں تو کالائے بد بریش خاوند۔تصور شیخ کی بابت پوچھو تو اس کا کوئی پتہ نہیں۔اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانین فی اللہ کی محبت ایک عمدہ شے ہے لیکن حفظ مراتب ضروری ہے۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی۔پس خدا کو خدا کی جگہ، رسول کو رسول کی جگہ سمجھو اور خدا کے کلام کو دستور العمل ٹھہرالو۔اس سے زیادہ چونکہ قرآن شریف میں اور کچھ نہیں کہ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبة : 119) پس صادقوں اور فانی فی اللہ کی صحبت تو ضروری ہے اور یہ کہیں نہ کہا گیا کہ تم اُسے ہی سب کچھ سمجھو۔اور یا قرآن شریف میں یہ حکم ہے اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران (32)۔اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ مجھے خدا سمجھ لو، بلکہ یہ فرمایا کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔اتباع کا حکم تو دیا ہے مگر تصور شیخ کا حکم قرآن میں پایا نہیں جاتا۔فوٹوگرافی کا جواز اور اس کی ضرورت فرمایا: ا حکم 24 تا 28 اکتوبر 1901 ، صفحہ 2،1) فی زمانہ تصویر کی ان لوگوں کے بالمقابل کس قدر حاجت ہے۔ہر ایک رزم بزم میں آج کل تصویر سے اثر ڈالا جاتا ہے۔پکٹ کی بھی تصویر شائع ہوئی ہے فوٹو کے بغیر آج کل جنگ ناقص ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح کے ہتھیار مخالف تیار کریں تم بھی ویسے ہی تیار کرواس سے فوٹو کا جواز ثابت ہے بندوقوں اور توپوں سے جنگ کرنے کا جواز بھی اسی طرح کیا گیا ہے ور نہ آگ سے مارنا تو حرام ہے جہاں ضرورت حقہ محرک اور مستدعی ہوتی ہے یا اس کے متعلق