فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 611

فقہ المسیح — Page 409

فقه المسيح 409 بدعات اور بد رسومات ہاں ایک شخص کو سنا ہے کہ بلھے شاہ قصور میں ہوا ہے۔اس کی کافیاں سُننے اور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو کوئی چیز نہیں سمجھتا ہے اور بُرے لفظوں سے یاد کرتا ہے اور شراب اور اباحت کو پسند کرتا ہے اور اسلام کی جابجا کافیوں میں توہین کرتا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا: ایسے ہی لوگوں نے اسلام کو بدنام کیا ہے۔یہ لوگ در حقیقت تنگ اسلام اور عارایمان ہیں۔ایسے لوگوں کا وجود بد نام کننده صلحاء ہے۔مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے عبرت پکڑ نی چاہئے کہ نہ ایسے لوگ ہوتے اور نہ اسلام پر دھبہ لگتا۔اگر چہ اسلام تو ایسا منور ہے کہ اس پر کسی قسم کا داغ دھبہ نہیں لگ سکتا لیکن ایسے لوگوں سے بجائے نفع کے نقصان پہنچا اور جن کے دلوں میں زیغ اور کچھی ہے وہ ایسی ایسی باتیں پیش کر دیتے ہیں اور عمدہ پاک لوگوں کو چھوڑ کر ایسے بیہودہ لوگ چھانٹ لیتے ہیں ورنہ اسلام نے تو اپنی پاک تاثیرات سے ہزار در ہزار اور کروڑ در کروڑ انسانوں کو اس درجہ پر پہنچا دیا کہ وہ درجہ مسیح کو بھی حاصل نہیں ہوا۔( تذكرة المهدی صفحه 45-46) بسم اللہ کی رسم ایک شخص نے بذریعہ تحریر عرض کی کہ ہمارے ہاں رسم ہے کہ جب بچے کو بسم اللہ کرائی جاوے تو بچے کو تعلیم دینے والے مولوی کو ایک عدد سختی چاندی یا سونے کی اور قلم و دوات چاندی یا سونے کی دیجاتی ہے۔اگر چہ میں ایک غریب آدمی ہوں مگر چاہتا ہوں کہ یہ اشیاء اپنے بچے کی بسم اللہ پر آپ کی خدمت میں ارسال کروں۔حضرت نے جواب میں تحریر فرمایا: سختی اور قلم و دوات سونے یا چاندی کی دینا یہ سب بدعتیں ہیں ان سے پر ہیز کرنا چاہیے اور با وجود غربت کے اور کم جائیداد ہونے کے اس قد را سراف اختیار کرنا سخت گناہ ہے۔(بدر 5 ستمبر 1907 ء صفحہ 3)