فقہ المسیح — Page 408
فقه المسيح 408 بدعات اور بد رسومات دلائل الخیرات کا ورد ایک روز ایک شخص نے سوال کیا کہ دلائل الخیرات کا درد اور پڑھنا کیسا ہے؟ فرمایا: دلائل الخیرات میں جتنا وقت خرچ ہو۔اگر نماز اور قرآن شریف کی تلاوت میں خرچ ہو تو کتنا فائدہ ہوتا ہے۔یہ کتابیں قرآن شریف اور نماز سے روک دیتی ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا کلام اور حکم ہے اور انسانوں کا بناوٹی وظیفہ ہے۔فرمایا قرآن شریف کی آیتوں اور سورتوں کا بھی لوگ وظیفہ کرتے ہیں اور یہ بدعت ہے اور نا سمجھی سے ایسا کرتے ہیں۔قرآن شریف وظیفہ کے لئے نہیں ہے۔یہ عمل کرنے کے لئے اور اخلاق کو درست کرنے کے لئے ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو تیج ہاتھ میں دے کر حجروں میں بٹھا دیتے تو دین ہم تک کب تک پہنچتا۔وہاں تو تلوار تھی اور جہاد تھا اور آپ بار بار فرماتے تھے کہ الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ یعنی جنت تلواروں کے سایہ میں ہے۔ہمارا زمانہ بھی منہاج نبوت کا زمانہ اور ہمارا طریق بھی منہاج نبوت کا طریق ہے۔اب لوگوں کو چاہئے کہ حجروں میں آگ لگا دیں۔تسبیح ہاتھ سے پھینک دیں۔رنگے کپڑوں کو جلا کر راکھ کر دیں اور جہاد کے لئے اور دین کی حمایت کے لئے مال سے، جان سے، ہاتھ سے، جس طرح سے ہو سکے کریں۔جب جہاد سیفی جہا د تھا اور اب جہاد لسانی وقالمی ہے۔جہاد جب بھی تھا اور اب بھی ہے لیکن صورت جہاد بدل گئی ہے۔مومن کبھی قشر پر راضی نہیں ہوتا ، وہ مغز چاہتا ہے۔لفظ پرستی کفر ہے، نرے لفظوں کے پڑھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔اس پر عمل کرنے سے اس کے مطابق چلنے سے کام چلتا ہے۔(تذکرۃ المہدی صفحہ 183-184) پا با تجھے شاہ کی کافیاں حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر کرتے ہیں : پادری عماد الدین کی کتاب تو زین الا قوال کا ذکر حضور کی مجلس میں ہورہا تھا۔) میں نے عرض کیا کہ حضرت! اسی کتاب میں عمادالدین نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں کوئی ولی نہیں ہوا۔