فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 611

فقہ المسیح — Page 400

فقه المسيح 400 بدعات اور بد رسومات باتوں سے راضی ہوتا ہے کہ انسان عفت اور پر ہیز گاری اختیا ر کرے۔صدق وصفا کے ساتھ اپنے خدا کی طرف جھکے۔دنیوی کدورتوں سے الگ ہو کر تبتل الی اللہ اختیار کرے۔خدا تعالیٰ کوسب چیزوں پر اختیار کرے۔خشوع کے ساتھ نماز ادا کرے۔نماز انسان کو منزہ بنا دیتی ہے۔نماز کے علاوہ اُٹھتے بیٹھتے اپنا دھیان خدا تعالیٰ کی طرف رکھے یہی اصل مدعا ہے جس کو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تعریف میں فرمایا ہے کہ وہ اُٹھتے بیٹھتے خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔اور اس کی قدرتوں میں فکر کرتے ہیں۔ذکر اور فکر ہر دو عبادت میں شامل ہیں۔فکر کے ساتھ شکر گذاری کا مادہ بڑھتا ہے۔انسان سوچے اور غور کرے کہ زمین اور آسمان ، ہوا اور بادل، سورج اور چاند ، ستارے اور سیارے۔سب انسان کے فائدے کے واسطے خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں۔فکر معرفت کو بڑھاتا ہے۔غرض ہر وقت خدا کی یاد میں اس کے نیک بندے مصروف رہتے ہیں۔اسی پر کسی نے کہا ہے کہ جو دم غافل سو دم کا فر۔آج کل کے لوگوں میں صبر نہیں۔جو اس طرف جھکتے ہیں وہ ابھی ایسے مستعجل ہوتے ہیں کہ چاہتے ہیں کہ پھونک مار کر ایک دم میں سب کچھ بنا دیا جائے اور قرآن شریف کی طرف دھیان نہیں کرتے کہ اس میں لکھا ہے کہ کوشش اور محنت کرنے والوں کو ہدایت کا راستہ ملتا ہے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ تمام تعلق مجاہدہ پر موقوف ہے۔جب انسان پوری توجہ کیسا تھ دُعا میں مصروف ہوتا ہے تو اس میں اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور وہ آستانہ الہی پر آگے سے آگے بڑھتا ہے تب وہ فرشتوں کے ساتھ مصافحہ کرتا ہے۔ہمارے فقراء نے بہت سی بدعتیں اپنے اندر داخل کر لی ہیں۔بعض نے ہندوؤں کے منتر بھی یاد کئے ہوئے ہیں اور ان کو بھی مقدس خیال کیا جاتا ہے۔ہمارے بھائی صاحب کو ورزش کا شوق تھا۔اُن کے پاس ایک پہلوان آیا تھا۔جاتے ہوئے اُس نے ہمارے بھائی صاحب کو الگ لیجا کر کہا کہ میں ایک عجیب تحفہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو بہت ہی قیمتی ہے۔یہ کہہ کر اُس