فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 611

فقہ المسیح — Page 399

فقه المسيح 399 بدعات اور بد رسومات لگتا ہے کہ میں اس مضمون سے سرور پا رہا ہوں ، مگر دراصل نفس کو صرف حظ درکار ہوتا ہے۔خواہ اس میں شیطان کی تعریف ہو یا خدا کی۔جب یہ لوگ اس میں گرفتار ہو کر فنا ہو جاتے ہیں۔تو ان کے واسطے شیطان کی تعریف یا خدا کی۔سب برابر ہو جاتے ہیں۔فقراء کے نت نئے طور طریقے فرمایا:۔( بدر 19 مارچ 1908 صفحہ 6،5) میں تعجب کرتا ہوں کہ آج کل بہت لوگ فقیر بنتے ہیں مگر سوائے نفس پرستی کے اور کوئی غرض اپنے اندر نہیں رکھتے۔اصل دین سے بالکل الگ ہیں جس دُنیا کے پیچھے عوام لگے ہوئے ہیں اسی دُنیا کے پیچھے وہ بھی خراب ہو رہے ہیں۔توجہ اور دم کشی اور منتر جنتر اور دیگر ایسے امور کو اپنی عبادت میں شامل کرتے ہیں جن کا عبادت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ صرف دنیا پرستی کی باتیں ہیں اور ایک ہندو کافر اور ایک مشرک عیسائی بھی ان ریاضتوں اور ان کی مشق میں ان کے ساتھ شامل ہو سکتا بلکہ اُن سے بڑھ سکتا ہے اصلی فقیر تو وہ ہے جو دنیا کی اغراض فاسدہ سے بالکل الگ ہو جائے اور اپنے واسطے ایک تلخ زندگی قبول کرے تب اس کو حالت عرفان حاصل ہوتی ہے اور وہ ایک قوت ایمانی کو پاتا ہے۔آج کل کے پیرزادے اور سجادہ نشین نماز جو اعلیٰ عبادت ہے اس کی یا تو پرواہ نہیں کرتے یا ایسی طرح جلدی جلدی ادا کرتے ہیں جیسے کہ کوئی بیگار کاٹنی ہوتی ہے اور اپنے اوقات کو خود تراشیدہ عبادتوں میں لگاتے ہیں جو خدا اور رسول نے نہیں فرمائیں۔ایک ذکر اڑہ بنایا ہوا ہے جس سے انسان کے پھیپھڑے کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔بعض آدمی ایسی مشقتوں سے دیوانے ہو جاتے ہیں اور بعض مر ہی جاتے ہیں۔جو دیوانے ہو جاتے ہیں ان کو جاہل لوگ ولی سمجھنے لگ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنی رضا مندی کی جو راہیں خود ہی مقرر فرما دی ہیں وہ کچھ کم نہیں۔خدا تعالیٰ ان