فقہ المسیح — Page 396
فقه المسيح 396 بدعات اور بد رسومات لوگ ہوتے ہیں وہاں آپ کی روح کیسے آسکتی ہے اور یہ کہاں لکھا ہے کہ روح آتی ہے؟ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسرائیل : 37) دونوں طرف کی رعایت رکھنی چاہیے۔جب تک وہابی جو کہ آنحضرت ﷺ کی عظمت نہیں سمجھتا وہ بھی خدا سے دور ہے۔انہوں نے بھی دین کو خراب کر دیا ہے۔جب کسی نبی ، ولی کا ذکر آجاوے تو چلا اٹھتے ہیں کہ ان کو ہم پر کیا فضیلت ہے؟ انہوں نے انبیاء کے خوارق سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہا، دوسرے فرقے نے شرک اختیار کیا حتی کہ قبروں کو سجدہ کیا اور اس طرح اپنا ایمان ضائع کیا۔ہم نہیں کہتے کہ انبیاء کی پرستش کرو بلکہ سوچو اور سمجھو۔خدا تعالیٰ بارش بھیجتا ہے ہم تو اس پر قادر نہیں ہوتے مگر بارش کے بعد کیسی سرسبزی اور شادابی نظر آتی ہے۔اسی طرح انبیاء کا وجود بھی بارش ہے۔پھر دیکھو کہ کوڑی اور موتی دونوں دریا ہی سے نکلتے ہیں پتھر اور ہیرا بھی ایک ہی پہاڑ سے نکلتا ہے مگر سب کی قیمت الگ الگ ہوتی ہے اسی طرح خدا نے مختلف وجود بنائے ہیں۔انبیاء کا وجود اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے اور خدا کی محبت سے بھرا ہوا۔اس کو اپنے جیسا سمجھ لینا اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہو گا بلکہ خدا نے تو وعدہ کیا ہے کہ جو اُن سے محبت کرتا ہے وہ انہیں میں سے شمار ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ بہشت میں ایک ایسا مقام عطا ہوگا جس میں صرف میں ہی ہوں گا۔ایک صحابی رو پڑا کہ حضور مجھے جو آپ سے محبت ہے میں کہاں ہوں گا ؟ آپ نے فرمایا تو بھی میرے ساتھ ہوگا۔پس کچی محبت سے کام نکلتا ہے۔ایک مشرک ہرگز کچی محبت نہیں رکھتا۔میں نے جہاں تک دیکھا ہے۔وہابیوں میں تیزی اور چالا کی ہوتی ہے۔خاکساری اور انکساری تو ان کے نصیب نہیں ہوتی یہ ایک طرح سے مسلمانوں کے آریہ ہیں۔وہ بھی الہام کے منکر ، یہ بھی منکر۔جب تک انسان براہ راست یقین حاصل نہ کرے نقص کے رنگ میں ہرگز خدا تعالیٰ تک پہنچ نہیں سکتا جو شخص خدا تعالیٰ پر پورا ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ اس