فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 611

فقہ المسیح — Page 393

فقه المسيح 393 بدعات اور بد رسومات اسی طرح ایک ملا یہاں آکر رہا۔ہمارے میرزا صاحب نے اسے محلے تقسیم کر دیئے ایک دن وہ روتا ہوا آیا کہ مجھے جو محلہ دیا ہے اس کے آدمیوں کے قد چھوٹے ہیں اس لیے ان کے مرنے پر جو کپڑا ملے گا اس سے چادر بھی نہ بنے گی۔اس وقت ان لوگوں کی حالت بہت رڈی ہے صوفی لکھتے ہیں کہ مردہ کا مال کھانے سے دل البدر 27 مارچ 1903 ، صفحہ 73) سخت ہو جاتا ہے۔طاعون سے محفوظ رہنے کے لیے زیارتیں لے کر نکلتا لاہور میں جو لوگ طاعون سے محفوظ رہنے کے لیے نماز پڑھنے کے واسطے زیارتیں لے کر نکلتے ہیں۔ان کا ذکر ہور ہا تھا۔اس پر فرمایا:۔جولوگ اب باہر جا کر نمازیں پڑھتے ہیں اور زیارتیں نکالتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری صفائی نہیں کرتے۔بچی تبدیلی کا ارادہ نہیں معلوم ہوتا ، ورنہ پھر وہی شوخی اور بیبا کی کیوں نظر آ رہی ہے۔اگر سچی تبدیلی ہو تو ممکن نہیں کہ طاعون نہ ہٹ جائے۔تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف جب میں کہتا ہوں کہ سچی تبدیلی کرو اور استغفار کرو۔خدا تعالیٰ سے صلح کرو تو میری ان باتوں پر ہنسی کرتے ہیں اور ٹھٹھے اڑاتے ہیں اور اب خود بھی دعا ہی اس کا علاج بتاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ طاعون ان کے ہی سبب سے آیا ہے کیونکہ انھوں نے جھوٹے دعوے کئے تھے۔مجھے ان کی اس بات پر بھی تعجب اور افسوس آتا ہے کہ میں تو جھوٹے دعوے کر کے سلامت بیٹھا ہوں، حالانکہ بقول ان کے طاعون میرے ہی سبب سے آیا ہے اور مجھے ہی حفاظت کا وعدہ دیا جاتا ہے۔یہ عجیب معاملہ ہے۔یہ بات تو ان عدالتوں میں بھی نہیں ہوتی کہ صریح ایک مجرم ہو وہ چھوڑ دیا جاوے اور بے گناہ کو پھانسی دے دی جاوے۔پھر کیا خدا تعالیٰ کی خدائی ہی میں یہ اندھیر اور ظلم ہے کہ جس کے لیے طاعون بھیجا جاوے وہ تو محفوظ رہے اور اس کو