فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 611

فقہ المسیح — Page 388

فقه المسيح 388 بدعات اور بد رسومات لفظ إِلَّا اللہ کی ضرب قلب پر لگاتا۔کافی وقت اس عمل کو جاری رکھنے کے بعد قلب سے بجلی کی رو کی طرح ایک لذت افزا کیفیت شروع ہو کر سر سے پاؤں تک اس طرح معلوم ہوئی کہ جسم کا ذرہ ذرہ اس کے زیر اثر تھا۔آخر وہ کیفیت اس قدر بڑھی اور نا قابل برداشت معلوم ہو نے لگی کہ میں نے خیال کیا اگر یہ کیفیت اس سے زیادہ رہی تو اغلب ہے کہ میں بے ہوش ہو کر چار پائی سے نیچے گر جاؤں۔چونکہ تنہا تھا اس لئے خیال ہوا کہ صبح اگر گھر کے لوگوں نے اس طرح گرا ہوا دیکھا تو شاید وہ کسی نشہ وغیرہ کا نتیجہ خیال کریں میں نے ذکر کو قصد ا بند کر دیا۔چونکہ رات کافی گذر چکی تھی اس لئے تھوڑی دیر میں ہی نیند آ گئی۔صبح بیدار ہونے پر حالت حسب معمول تھی۔اس کے بعد میں نے بارہا اس طرح عمل کیا مگر وہ کیفیت پیدا نہ ہوئی۔حضور نے سن کر فرمایا کہ اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ وہ کیفیت پھر پیدا ہو۔میں نے عرض کیا کہ میری خواہش تو یہی ہے۔حضور نے فرمایا کس غرض سے آپ ایسا چاہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ اس میں ایک عالم سرور اور ایک قسم کی لذت تھی۔اس جیسی لذت میں نے کسی اور شے میں نہیں دیکھی۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ خدا کی عبادت لذت کے لئے نہیں کرنی چاہئے بلکہ حکم کی تعمیل اور اپنا فرض سمجھ کر کرنی چاہئے۔خدا چاہے تو اس میں بھی اس سے بہتر لذت پیدا ہو سکتی ہے۔اگر لذت کو مدنظر رکھ کر عبادت کی جائے تو لذت نفس کی ایک کیفیت ہے۔اس کے حصول کے لئے عبادت نفس کے زیر اتباع ہے۔خدا کی عبادت ہر حال میں کرنی چاہئے۔خواہ لذت ہو یا نہ ہو۔وہ اس کی مرضی پر ہے۔پھر فرمایا یہ حالت جو آپ نے دیکھی یہ ایک سالک کے لئے راستہ کے عجائبات اور غول راہ کے طور پر ہوتے ہیں اور عارضی ہوتے ہیں۔اس کے عارضی ہونے کا اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوگا کہ آپ اس کو پھر چاہتے ہیں۔اسی طرح ذکر کرنے پر بھی وہ لذت حاصل نہ